Al-Risala · April 2009 · page 10

قرآن: تلاشِ فطرت کا جواب

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۹، صفحہ ۱۰

قرآن: تلاشِ فطرت کا جواب

دسمبر 2003 میں اسپین کے شہر اشبیلیہ (Seville) میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس کی دعوت پر راقم الحروف نے بھی اُس میں شرکت کی۔ اس کانفرنس میں امریکا کے ایک سینئر پروفیسر آئے ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں ایک متلاشی حق (truth seeker) تھا۔ میں آئیڈنٹٹی کرائسس (identity crisis) کے مسئلے سے دوچار تھا، پھر میں نے قرآن کو پڑھا۔ میں نے قرآن میں اپنی آئیڈنٹٹی کو دریافت کر لیا:

I have discovered my identity in the Quran.

یہ معاملہ صرف ایک شخص کا نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر عورت اور مرد آئیڈنٹٹی کرائسس (identity crisis) کے مسئلے سے دوچار رہتے ہیں، کوئی شعوری طور پر کوئی غیر شعوری طور پر۔ مگر بیشتر لوگ اس دریافت سے محروم رہتے ہیں۔ لوگوں کا ٹنشن میں مبتلا ہونا، اِسی بنا پر ہوتا ہے۔ ہر آدمی کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی آئیڈنٹٹی کو جانے، لیکن اس معرفت میں ناکامی اُس کونشن میں مبتلا کردیتی ہے۔

اصل یہ ہے کہ کوئی عورت یا مرد جب پیدا ہو کر اس دنیا میں آتے ہیں، تو فطری طور پر اُن کے ذہن میں اس قسم کے سوالات ابھرنے لگتے ہیں— میں کون ہوں۔ میں کیسے بن گیا۔ میری زندگی کا مقصد کیا ہے۔ موت کیا ہے، اور موت کے بعد کیا ۔ میں کہاں سے آیا ہوں اور مجھے کہاں جانا ہے، وغیرہ۔ انھیں سوالات کا نام آئیڈنٹٹی کی تلاش ہے۔ برطانی سائنس داں سر جیمز جینز (وفات: 1946) نے دیکھا کہ بظاہر دنیا میں ان سوالات کا جواب موجود نہیں، چناں چہ اس نے اپنی کتاب— پُر اسرار کائنات (The Mysterious Universe) میں لکھا ہے کہ — بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آگیا ہے جو اس کے لیے نہیں بنائی گئی تھی:

Man has strayed into a world that was not made for him.

‹ Previous page Next page › Contents of April 2009 All issues

Printed page