Al-Risala · April 2009 · page 11

تحفہ کلچر

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۹، صفحہ ۱۱

تحفہ کلچر

ایک بیرونی سفر میں میری ملاقات کویت کے ایک عرب پروفیسر سے ہوئی۔ ان کے ہوٹل کے کمرہ میں ہم دونوں نے نماز پڑھی۔ اس وقت وہ ایک رسٹ واچ پہنے ہوئے تھے۔ انھوں نے بیزاری کے ساتھ گھڑی کو اتارا اور اس کو میز پر رکھ دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ گھڑی ٹھیک کام نہیں کرتی، وہ چلتے چلتے رک جاتی ہے۔ میں نے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ یہ تحفہ کی گھڑی ہے۔ میں نے مزید پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ابھی حال میں کسی نے ان کو جلد ہی یہ گھڑی تحفہ میں دی ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا کویت میں بھی تحفہ دینے والوں کا یہی مزاج ہے۔ انھوں نے کہا کہ تحفہ کے معاملے میں ہر جگہ کے لوگوں کا مزاج ایک ہی ہے، یعنی ایسی چیز دینا جو کار آمد ہونے سے زیادہ نمائشیییییی ہو ۔ تحفہ کے بارے میں یہ شکایت میں نے بہت سے لوگوں سے سنی ہے۔ میں ذاتی طور پر اس قسم کے تحفہ کو ایک گناہ کا فعل سمجھتا ہوں۔ اس لیے کہ ایسا تحفہ تبذیر (فضول خرچی) کے ہم معنی ہے۔ اور تبذیر کو قرآن میں ایک شیطانی عمل کہا گیا ہے (الإسراء : 27)۔ اس قسم کے نمائش تحفہ میں صرف مال ضائع ہوتا ہے، ایسا تحفہ کسی حقیقی ضرورت کو پورا نہیں کرتا۔

حدیث میں آیا ہے کہ: تھادوا تحابوا (الأدب المفرد للبخاري) یعنی ایک دوسرے کو ہدیہ دو، اس سے آپس میں محبت بڑھے گی ۔ اس حدیث کے مطابق ، صحیح ہدیہ وہ ہے جو آپس میں سچی محبت بڑھائے۔ جو ہدیہ محبت پیدا کرنے کے بجائے آپس میں کدورت پیدا کرے، جس سے ایک دوسرے کے بارے میں رائے خراب ہو جائے، ایسا ہدیہ بلاشبہ ہدیہ کی ضد ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی ہدیہ۔ تحفہ کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک ، نمائش تحفہ اور دوسرے، حقیقی ضرورت کا تحفہ۔ عام طور پر لوگ نمائش تحفہ دیتے ہیں۔ ایسے تحفہ میں پیسہ تو خرچ ہو جاتا ہے ، لیکن وہ تحفہ کسی آدمی کے لیے کار آمد ثابت نہیں ہوتا۔ اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی یا تو حقیقی تحفہ دے، یا وہ سرے سے کوئی تحفہ نہ دے۔ نمائش تحفہ دینا ہر گز سنت رسول کی پیروی نہیں ہے۔ نمائش تحفہ دینا صرف ایک جرم ہے، نہ کہ کوئی اچھا کام۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2009 All issues

Printed page