Al-Risala · April 2009 · page 12

دعوت اور اقدام کا فرق

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۹، صفحہ ۱۲

دعوت اور اقدام کا فرق

دعوت پرامن تبلیغ کا نام ہے۔ اس کے برعکس، اقدام یہ ہے کہ کسی کے خلاف عملی کارروائی کی جائے، اس فرق کی بنا پر دونوں کی نوعیت بالکل بدل جاتی ہے۔ پر امن دعوت کا کام ہر حال میں کیا جائے گا، خواہ لوگ اس کو قبول کریں یا نہ کریں، لیکن عملی اقدام کے معاملے میں اس کے نتیجہ (result) پر غور کرنا لازمی طور پر ضروری ہے۔ اگر نتیجہ نکلنے والا ہو تو یہ اقدام کیا جائے گا اور اگر نتیجہ نکلنے والا نہ ہو تو عملی اقدام سے کامل پر ہیز کیا جائے گا۔

دعوت کا انحصار تمام تر داعی کی اپنی ذات پر ہوتا ہے۔ داعی کا اپنا ارادہ کافی ہے کہ دعوت کے عمل کو انجام دیا جائے۔ اگر داعی حقیقی طور پر اپنی دعوتی ذمے داری ادا کر دے تو اس کو کامیاب سمجھا جائے گا، خواہ مدعو گروہ نے اُس کی دعوت کو قبول کیا ہو یا نہ کیا ہو۔

عملی اقدام کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ عملی اقدام میں ایسا ہوتا ہے کہ فریق ثانی کے ساتھ مقابلہ اور ٹکراؤ پیش آتا ہے۔ اس بنا پر، عملی اقدام دو گروہوں کے درمیان طاقت آزمائی (power struggle) کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ایک فریق دوسرے فریق کو زیر کرنے کے لیے اپنے ذرائع کو استعمال کرنے لگتا ہے۔ یہ مقابلہ آرائی اکثر فساد اور تشدد اور جنگ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ عملی اقدام، اکثر حالات میں کاؤنٹر پروڈکٹیو (counterproductive) ثابت ہوتا ہے۔

اس فرق کی بنا پر ہر فرد یا گروہ کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے کہ وہ اپنی کوششوں کو پر امن دعوت تک محدود رکھے، وہ ہرگز عملی اقدام نہ کرے۔ عملی اقدام بطور دفاعی کارروائی تو جائز ہو سکتا ہے، لیکن دفاعی صورتِ حال کے بغیر اقدام سرے سے جائز نہیں۔ اس اصول کی خلاف ورزی کسی بھی حال میں، کسی بھی فرد یا گروہ کے لیے درست نہیں۔ پر امن فکری کوشش ہر حال میں کی جاسکتی ہے، لیکن عملی اقدام صرف اُس وقت کیا جائے گا، جب کہ وہ نتیجہ خیز ثابت ہونے والا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2009 All issues

Printed page