Al-Risala · January 2009 · page 15

دو نہیں ، کلچر

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۱۵

دو نہیں ، کلچر

آج کل ایک چیز بہت عام ہے، وہ ہے— نہیں کلچر، یعنی ایک بات کے لیے پہلے نہیں کہنا، مگر جب اس کی اسکروٹنی (scrutiny) کی جائے، تو پھر ہاں کہہ دینا۔ یہ نہیں کلچر موجودہ زمانے میں بہت زیادہ عام ہے۔ وہ مذہبی لوگوں میں بھی اتنا ہی پایا جاتا ہے، جتنا کہ سیکولر لوگوں میں۔ موجودہ زمانے کا ایک فیشن ”سفید پوشی“ ہے، یعنی اپنے آپ کو خوب صاف ستھرا رکھنا۔ یہ مزاج جسمانی آرائش سے گزر کر، باطنی آرائش تک پہنچ گیا ہے۔ ہر عورت اور مرد، شعوری یا غیر شعوری طور پر، یہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کے درمیان ان کی تصویر (image) اچھی بنی رہے۔ وہ سماج میں اچھے انسان سمجھے جائیں۔ اسی ذہن نے مذکورہ کلچر پیدا کیا ہے۔

ہر آدمی سے چھوٹی یا بڑی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں۔ اس طرح کی غلطیوں کا فطری حل یہ ہے کہ آدمی فوراً ہی اپنی غلطی مان لے۔ وہ کھلے لفظوں میں یہ کہہ دے کہ — میں غلطی پر تھا۔ لیکن لوگوں کے درمیان اپنے آپ کو اچھا بنائے رکھنے کا ذہن اتنا زیادہ چھایا ہوا ہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر میں نے اپنی زبان سے اپنی غلطی کا اعتراف کیا، تو میری تصویر (image) خراب ہو جائے گی۔ اس لیے وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔

یہ ایک مہلک قسم کی اخلاقی کم زوری ہے۔ اس کم زوری کی قیمت یہ دینی پڑتی ہے کہ آدمی کو بار بار جھوٹ بولنا پڑتا ہے، یا تو وہ کہہ دیتا ہے کہ میں نے ایسا نہیں کیا، یا وہ بعد کو گھما پھرا کر یا توڑ مروڑ کر اس کو کہتا ہے، جس کو انگریزی میں ٹوسٹ (twist) کرنا کہتے ہیں۔

اس عادت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی کے اندر کم زور شخصیت (weak personality) بنتی ہے۔ اس قسم کی کم زور شخصیت آدمی کے روحانی ارتقا میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایسے عورت اور مرد اس نعمت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جاتے ہیں جس کو اعلیٰ روحانی شخصیت کہا جاتا ہے۔ اسی اعلیٰ روحانی شخصیت کا دوسرا نام جنتی شخصیت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues

Printed page