Al-Risala · January 2009 · page 16

اسلام کی پانچ بنیادیں

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۱۶

اسلام کی پانچ بنیادیں

حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی الإسلام علی خمس : شهادة أن لا إله إلا الله، وأنّ محمداً عبده ورسوله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، والحجّ، وصوم رمضان“ (صحیح البخاری، مسلم، الترمذی، النسائی)۔

یعنی اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے— اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور محمد اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، اور زکوٰۃ ادا کرنا، اور حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا۔

اس حدیث رسول میں جن پانچ چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے، وہ سب عقیدے اور عبادت سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان میں خلافت اور حکومت کا کوئی ذکر نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ خلافت اور حکومت کی حیثیت اسلام کی عمارت کے ستون کی نہیں ہے۔ قرآن کے لفظوں میں وہ ایک ”شیئ آخر“ (الصف : 13) ہے، یعنی ثانوی چیز۔ اس کے مطابق ، مذکورہ پانچ ارکان، اسلام کی تعمیر میں ستون کی حیثیت رکھتے ہیں اور حکومت کی حیثیت صرف ثانوی (secondary) ہے، یعنی وہ حاصل ہو جائے تب بھی ٹھیک ہے اور حاصل نہ ہو تب بھی ٹھیک ہے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ سیاسی اقتدار ہمیشہ کسی ایک گروہ کے پاس نہیں رہتا، وہ بدلتا رہتا ہے، یعنی کبھی ایک گروہ کے پاس اور کبھی دوسرے گروہ کے پاس (وتلک الأيام نداولها بين الناس، آل عمران: 140)۔ اس قرآنی آیت کا تعلق، غلبہ اور اقتدار سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غلبہ اور اقتدار پر کسی ایک گروہ کی اجارہ داری نہیں ہوتی، وہ لوگوں کے درمیان بدلتا رہتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس دنیا میں جو چیزیں انسان کو ملتی ہیں، وہ بطور انعام نہیں ملتیں، بلکہ وہ پرچہ امتحان کے طور پر ملتی ہیں۔ یہی حیثیت غلبہ واقتدار کی بھی ہے۔ قرآن کے مطابق، حضرت سلیمان کو غلبہ واقتدار عطا ہوا تھا، مگر انھوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ ہم کو بطور انعام ملا ہے، بلکہ انھوں نے یہ کہا کہ وہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues

Printed page