یہ بھی جھوٹ ہے
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۹، صفحہ ۱۵
یہ بھی جھوٹ ہے
ایک صاحب کو میں نے دیکھا کہ ان کا وزن کافی بڑھا ہوا ہے۔ میں نے اُن سے کہا کہ آپ شاید کھانے پینے میں احتیاط نہیں کرتے۔ اس لیے آپ کا وزن بڑھ گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں، میں تو روٹی اور سبزی اور روٹی اور دال جیسا سادہ کھانا کھاتا ہوں۔ لیکن جب میں نے اسکروٹنی (scrutiny) کی، تو معلوم ہوا کہ وہ اپنے گھر میں تو سادہ کھانا کھاتے ہیں، لیکن جب وہ باہر نکلتے ہیں تو اکثر وہ جنک فوڈ (junk food) کا استعمال کرتے ہیں۔ ایسا تقریبا روزانہ ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک جھوٹ ہے اور اس قسم کے جھوٹ میں اکثر لوگ مبتلا رہتے ہیں۔ ہمارے سماج میں ایسے لوگ بہت کم ملیں گے جو بالکل برہنہ جھوٹ بولیں، لیکن مذکورہ قسم کا جھوٹ تقریبا تمام لوگ بولتے ہیں، حالاں کہ کذب جلی اگر گناہ ہے، تو کذب خفی بھی بلاشبہ ایک گناہ ہے۔ دونوں میں درجہ کے اعتبار سے فرق ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ عام طور پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ دوسروں کی نظر میں اچھے بنے رہیں۔ یہی وہ نفسیات ہے جس کی بنا پر لوگ کذب خفی کی برائی میں مبتلا رہتے ہیں، وہ صاف انداز میں بات نہیں کرتے۔ وہ ٹوٹ (twist) کر کے بولتے ہیں۔ کسی سوال کا جواب وہ اس انداز میں دیتے ہیں کہ ان کی کم زوری چھپی رہے، وہ لوگوں کے علم میں نہ آئے۔ کذب خفی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اُس سے آدمی کے اندر کم زور شخصیت (weak personality) بنتی ہے۔ کم زور شخصیت اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہی چیز ہے جس کو مذہب کی زبان میں منافقت کہا جاتا ہے، اور منافقت بلاشبہ انسان کے لیے ایک سخت تباہ کن چیز ہے۔
آدمی کو صرف یہ نہیں کرنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو کھلے کھلے حرام سے بچائے۔ اس نوعیت کا پر ہیز تو ایک حیوان بھی کرتا ہے۔ انسان کو اس سے اوپر اٹھنا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ نہ صرف حرام چیزوں سے بچے، بلکہ وہ ایسی چیزوں سے بھی مکمل پر ہیز کرے جس سے اس کے اندر کم زور شخصیت کی پرورش ہوتی ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2009 All issues