Al-Risala · April 2009 · page 16

موت کے بعد

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۹، صفحہ ۱۶

موت کے بعد

موت ہر انسان کے لیے ایک غیر مطلوب واقعہ ہے۔ آدمی لمبی مدت تک جینا چاہتا ہے، مگر وہ اچانک ایک دن مر جاتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آدمی سفر میں تھا، وہ زیادہ دور تک جانا چاہتا تھا، مگر منزل پر پہنچنے سے پہلے موت نے یک طرفہ فیصلے کے تحت، اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ یہ ہر عورت اور ہر مرد کا سوال ہے۔ ہر ایک یہ جاننا چاہتا ہے کہ کیوں کر ایسا ہوتا ہے۔ زندگی کیا ہے اور موت کیا۔ کیوں ایسا ہے کہ آدمی زیادہ دن تک جینا چاہتا ہے، مگر اس کو درمیان ہی میں اس کی مرضی کے بغیر، موت کے فیصلے کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ جب ہم اس معاملے پر غور کرتے ہیں تو ہم کو سب سے پہلا سراغ (clue) ڈی این اے (DNA) کی جدید دریافت میں ملتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، ہر انسان کے اندر اس کا ڈی این اے بھی موجود ہوتا ہے۔ ہر انسان کا ڈی این اے گویا کہ اس کی شخصیت کا مکمل انسائیکلو پیڈیا ہے۔ اس ڈی این اے کو ڈی کوڈ (decode) کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ وہ ہماری بڑی سے بڑی انسائیکلو پیڈیا سے بھی سیکڑوں گنا زیادہ بڑا ہے۔ ہر انسان کے ڈی این اے میں اس کی شخصیت (personality) کے تمام چھوٹے اور بڑے پہلو موجود ہیں۔

مگر عجیب بات ہے کہ ڈی این اے انسانی شخصیت کے صرف ایک پہلو کے اندراج سے خالی ہے۔ کسی انسان کے ڈی این اے کا مطالعہ کرکے، اس کے بارے میں ہر بات کو معلوم کیا جا سکتا ہو، مگر صرف ایک بات کو معلوم کرنا ممکن نہیں، اور وہ یہ کہ کسی انسان کی موت کب واقع ہوگی۔ یہ فطرت کی طرف سے اس بات کا اعلان ہے کہ انسان اپنی حیثیت کے اعتبار سے ایک نہ مرنے والی مخلوق ہے۔ انسان کے لیے مسلسل زندگی ہے، حقیقی معنوں میں اس کی شخصیت پر موت وارد ہونے والی نہیں۔ اب یہاں انسانی شخصیت کے ایک اور پہلو کو شامل کر لیجیے، وہ یہ کہ تمام ذی حیات چیزوں میں صرف انسان ہے جو کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ تمام حیوانات صرف آج (today) میں

‹ Previous page Next page › Contents of April 2009 All issues

Printed page