Every thing falls into place.
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۹، صفحہ ۱۷
جیتے ہیں، کسی حیوان کا کوئی کل نہیں۔ اپنے محدود شعور کے اعتبار سے حیواناتمیں سے ہر ایک کا معاملہ یہ ہے کہ وہ آج میں پیدا ہوئے اور آج ہی میں ان کا خاتمہ ہو گیا۔ مگر انسان استثنائی طور پر ایک ایسی مخلوق ہے جو واضح طور پر کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔
اس معاملے میں درست رائے قائم کرنے کے لیے ایک پہلو کو شامل کرنا ضروری ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، ہر آدمی جو اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، وہ ان گنت تمناؤں (ambitions) کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ دوسری حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی اس طرح مر جاتا ہے کہ اس کی تمنائیں پوری نہیں ہوتیں۔ اس اعتبار سے، ہر آدمی نامکمل تمناؤں (unfulfilled desires) کا کیس ہے۔ کائنات کے عام نظام کو دیکھیے تو یہ واقعہ بالکل بے جوڑ ہے۔ اس وسیع کائنات میں صرف انسان ہے جو اس مسئلے سے دوچار ہے، انسان کے سوا کوئی بھی دوسری مخلوق اس مسئلے سے دوچار نہیں۔ یہ صورتِ حال بتا رہی ہے کہ اس مسئلے کا جواب ہونا چاہیے۔ انسان کی تمناؤں کو اُسی طرح فل فل مینٹ ملنا چاہیے جس طرح دوسری مخلوقات کو ملا ہوا ہے۔ یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا کے بعد ایک اور دنیا آنے والی ہے، یعنی وہ دنیا جہاں انسان اپنی تمناؤں کی کامل تسکین پاسکے۔ اس طرح اس معاملے کا ایک اور پہلو بہت زیادہ اہم ہے، وہ یہ کہ انسان کے اندر فطری طور پر انصاف (justice) کا ذہن پایا جاتا ہے۔ انسان فطری طور پر یہ چاہتا ہے کہ اس دنیا میں عدل کے ساتھ فیصلہ ہو۔ نیک لوگوں کو ان کی نیکی کا پورا بدلہ ملے، اور بُرے لوگوں کو ان کی بُرائی کی سزا دی جائے ۔ یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔ یہ تقاضا بھی چاہتا ہے کہ ایک دنیا آئے، جہاں عدل کا یہ تقاضا پورا ہو۔ کیوں کہ موجودہ دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔
مذکورہ سوالات کو سامنے رکھ کر سوچا جائے تو آخرت (hereafter) کا نظریہ بالکل حقیقی نظریہ معلوم ہوتا ہے۔ آخرت کے نظریے کو ماننے کی صورت میں آدمی کو ہر سوال کا مکمل جواب مل جاتا ہے۔ ہر چیز اپنی جگہ پر درست ہو جاتی ہے:
Every thing falls into place.
‹ Previous page Next page › Contents of April 2009 All issues