پہلی واپسی ، دوسری واپسی
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۹، صفحہ ۲۶
پہلی واپسی ، دوسری واپسی
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہود (بنی اسرائیل) کے لیے پیشگی طور پر دو وعدہ (appointed time) مقرر فرمایا تھا (الإسراء: 4)۔ حضرت ابراہیم کے ذریعے نافذ ہونے والے خدائی منصوبے کے مطابق ، یہود کا وطن ارضِ فلسطین قرار پایا۔ اس کے بعد ان کی لمبی تاریخ کے دوران یہ مقدر تھا کہ اُن کے ساتھ دو بار یہ واقعہ پیش آئے گا کہ وہ اپنے وطنِ فلسطین سے نکل کر بیرونی علاقوں میں منتشر ہو جائیں گے اور پھر اپنے وطنِ فلسطین کی طرف دوبارہ واپس آئے گی۔ گویا کہ یہود کی نسلِ دوبار ڈائس پورا (diaspora) کی صورت اختیار کرے گی اور پھر وہ اپنے وطن کی طرف واپس آئیں گے۔ حضرت یوسف کے زمانے میں بنی اسرائیل، کنعان (فلسطین) سے ہجرت کر کے مصر گئے۔ اُس وقت اُن کی تعداد 70 تھی (پیدائش: 27: 46)۔ بائبل کے بیان کے مطابق، اُن کی نسلیں 430 سال تک مصر میں آباد رہیں (خروج: 12:40)۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ کے زمانے میں مصر سے نکل کر وہ لوگ وادی سینا کے علاقے میں آئے۔ اُس وقت (عورتوں اور بچوں کو چھوڑ کر) اُن کے مردوں کی تعداد 6 لاکھ ہو چکی تھی (خروج: 37: 12)۔ اس کے بعد وہ 1400 قبل مسیح میں حضرت موسیٰ کے خلیفہ یوشع بن نون (Joshua) کی قیادت میں اپنے وطنِ فلسطین میں داخل ہوئے ۔ یہ یہودی تارکینِ وطن (Jews in diaspora) کے ارضِ فلسطین میں داخلے کا پہلا’’ وعدہ‘‘ تھا۔ یہ داخلہ خدا کے حکم کے مطابق ہوا۔ اس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں آیا ہے: یا قوم ادخلوا الأرض المقدسة التي كتب الله لكم (المائدة: 21) یعنی موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ تم لوگ ارضِ مقدس میں داخل ہو جاؤ، جس کو خدا نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے ساتھ دوسرا وعدہ کب پورا ہوا، یا کب پورا ہوگا۔ اس معاملے میں قرآن کی ایک آیت سے رہنمائی ملتی ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 17 میں یہود کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: فإذا جاء وعد الآخرة جئنا بكم لفيفًا (الإسراء: 104) یعنی جب
‹ Previous page Next page › Contents of April 2009 All issues