پہلی واپسی ، دوسری واپسی
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۹، صفحہ ۲۷
دوسرے وعدہ کا وقت آئے گا تو ہم تم کو ہر جگہ سے سمیٹ کر (فلسطین میں) لے آئیں گے۔ بنی اسرائیل (یہود) کے ساتھ یہ دوسرا وعدہ کب پورا ہوا، جب کہ وہ فلسطین میں دوبارہ واپس آئے ۔ اس دوسرے وعدہ (وعد الآخرۃ) سے مراد غالباً وہی واقعہ ہے جو بیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں پیش آیا۔ بال فور ڈکلریشن (Balfour Declaration) کے تحت 1948 میں یہودی تارکین وطن (Jews in diaspora) کی واپسی اپنے وطن فلسطین کی طرف شروع ہوئی اور آخر کار فلسطین کے نصف حصے میں ریاستِ اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔
پہلی واپسی کا مقصد یہ تھا کہ یہود کو دوبارہ اُن کا بھولا ہوا خدائی سبق یاد دلایا جائے ۔ اس طرح وہ دوبارہ فلسطین میں اِس لیے اکٹھا کیے گئے ہیں کہ اُنھیں خدا کا پیغام حق پہنچایا جائے، تاکہ اُن میں جو سعید روحیں ہیں، وہ حق کو قبول کر کے خدا کی ابدی رحمت کی مستحق بنیں۔ اور جو لوگ بھٹکے ہوئے ہیں، اُن کو ایکسپوز (expose) کیا جاسکے۔ حدیث میں نزول مسیح کے زمانے میں جس قتل یہود کا ذکر ہے، اُس سے مراد جسمانی قتل نہیں، بلکہ اس سے مراد یہود کو ایکسپوز کرنا ہے، تاکہ قیامت سے پہلے یہ واضح ہو جائے کہ وہ حق پر قائم تھے، یا وہ حق کو چھوڑ کر حق سے دور چلے گئے تھے۔
ان واقعات کی روشنی میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہود کا اجتماع جو 1948 میں اسرائیل کے اندر ہوا، وہ خدائی منصوبے کے عین مطابق تھا۔ اب یہ مطلوب تھا کہ امت مسلمہ اُن کو مدعو کے روپ میں دیکھے اور ناصحانہ انداز اختیار کرتے ہوئے اُنھیں حق کا پیغام پہنچائے۔ یہ یہود کے اوپر آخری اتمام حجت ہوگا۔ اس کے بعد اگلا مرحلہ قیامت کا مرحلہ ہوگا۔ یہ مرحلہ خداوند ذو الجلال کے سامنے حاضر ہونے کا مرحلہ ہوگا، یہود کے لیے اور امت مسلمہ کے لیے اور ساری دنیا کے لیے۔
عرب اسرائیل ٹکراؤ جو 1948 میں شروع ہوا، اُس کا سب سے زیادہ سنگین پہلو یہ ہے کہ 60 سال کے خونی تصادم کے باوجود اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا، بلکہ عملاً وہ صرف کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوا ہے۔ جہاد کے نام پر کی جانی والی اس جنگ کا یہ معکوس نتیجہ کیوں برآمد ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جہاد اعداء اللہ کے خلاف ہوتا ہے۔ عرب۔ اسرائیل جنگ اپنی نوعیت
‹ Previous page Next page › Contents of April 2009 All issues