Al-Risala · April 2009 · page 31

منطقی طرزِ استدلال

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۹، صفحہ ۳۱

منطقی طرزِ استدلال

ایک عالم سے گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے: استفت قلبك (اپنے دل سے پوچھ لو)۔ اس سے معلوم ہوا کہ دین کے تقاضے معلوم کرنے کا ایک ذریعہ قرآن اور حدیث کے علاوہ ہے، اور وہ کامن سنس (common sense) ہے۔ اسلام دین فطرت ہے۔ اس لیے جو چیز فطری تقاضے کے مطابق ہو، وہ بھی اسلام میں داخل سمجھی جائے گی۔ مثال کے طور پر ہر شخص اپنے ماں باپ سے محبت کرتا ہے۔ وہ اس کو دین کے مطابق سمجھتا ہے۔ حالاں کہ قرآن اور حدیث میں کہیں بھی لفظی طور پر یہ لکھا ہوا موجود نہیں ہے کہ — اپنے ماں باپ سے محبت کرو۔

انھوں نے میری بات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ماں باپ سے محبت کرنے کا حکم قرآن میں موجود ہے، پھر انھوں نے قرآن کی یہ آیت پڑھی: وقضى ربك أن لا تعبدوا إلا إيَّاه وبالوالدين إحساناً (الإسراء: 23)۔ میں نے کہا کہ اس آیت سے آپ کا مدعا ثابت نہیں ہوتا۔ اس آیت میں جس چیز کا حکم دیا گیا ہے، وہ ماں باپ کی محبت نہیں ہے، بلکہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک ہے، یعنی ماں باپ کے ساتھ تمام انسانی اور اخلاقی تقاضے پورے کرنا۔ یہ ایک غیر منطقی استدلال ہے کہ جس آیت میں اخلاقی سلوک کا ذکر ہو، اُس سے قلبی محبت کا حکم نکالا جائے۔ منطقی استدلال کیا ہے۔ منطقی استدلال (logical argument) دراصل درست ریزننگ (correct reasoning) کا نام ہے۔ یعنی وہ استدلال جو حقائق پر مبنی ہو۔ جس میں متعلق (relevant) اور غیر متعلق (irrelevant) کے فرق کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے بات کہی جائے۔ ایسا استدلال جو مخاطب کے مسلمہ پر مبنی ہو، نہ کہ کسی یک طرفہ مفروضے پر، جس کی بنیاد قطعی امور پر ہو، نہ کہ ظنی امور پر، جو جذباتی طرزِ فکر سے بالکل پاک ہو، جس میں کامل موضوعی فکر (objective thinking) پائی جائے۔ ایسے ہی استدلال کا نام منطقی استدلال ہے۔ اور منطقی استدلال ہی دراصل درست استدلال (correct reasoning) کا درجہ رکھتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2009 All issues

Printed page