سب سے بڑا مسئلہ
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۹، صفحہ ۳۰
سب سے بڑا مسئلہ
مشہور امریکی پروفیسر جیرڈ ڈائمنڈ (Jared Diamond) کی پیدائش 1937 میں ہوئی۔ انھوں نے مختلف علوم پر ڈگریاں لیں ۔ وہ ایک درجن زبانیں جانتے ہیں۔ ان کا ایک با معنی قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے— واحد سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ یہ دریافت نہیں کر پاتے کہ ان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے:
The single most important problem is our misguided focus on identifying the single most important problem! (The Times of India, New Delhi, July 6, 2008, p. 28)
یہ بات بالکل درست ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ لوگ اصل مسئلے کی پہچان کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ غیر حقیقت پسندانہ طرزِ فکر (unrealistic approach) ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ عام طور پر وہ جذباتیت یا تعصب، وغیرہ کا شکار رہتے ہیں۔ اس بنا پر وہ بے آمیز انداز میں سوچ نہیں پاتے۔ ایسے لوگوں کا حال اُس انسان جیسا ہوتا ہے جس کی آنکھ پر رنگین عینک لگی ہوئی ہو اور وہ اپنی اسی رنگین عینک سے باہر کی چیزوں کو دیکھے۔ ایسا آدمی چیزوں کو اپنے رنگین شیشہ کی نسبت سے دیکھے گا، نہ کہ حقیقتِ واقعہ کی نسبت سے۔ اس دنیا میں غلط عمل ہمیشہ اسی قسم کے غلط مشاہدے کا نتیجہ ہوتا ہے۔
جب آپ اصل مسئلے کو دریافت نہ کر سکیں تو اس کے بعد آپ اپنے مسئلے کے حل کی جو تدبیر کریں گے، وہ یقینی طور پر ناکام ہو جائے گی۔ آپ کا حال اُس شکاری جیسا ہوگا جو اپنے اصل نشانہ (target) کو صحیح طور پر متعین کیے بغیر اپنی بندوق چلا دے۔
جو آدمی یہ چاہتا ہو کہ وہ اپنے مسئلے کو صحیح طور پر حل کر سکے، اس کو چاہیے کہ سب سے پہلے وہ حقیقت پسندانہ انداز میں اصل مسئلے کی شناخت کرے۔ اور پھر اس کے حل کے لیے ٹھیک مطابق واقعہ منصوبہ بندی کرے۔ اس کے بغیر مسئلے کے حل کی جو بھی تدبیر کی جائے گی، وہ یقینی طورپر ناکام ثابت ہوگی۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2009 All issues