اسلام کی پانچ بنیادیں
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۱۷
ہم کو امتحان کے طور پر ملا ہے : لیبلونی اً أشکر أم أكفر ( النمل : 45 ) یعنی خدائے جو اقتدار مجھ کو عطا فرمایا ہے ، وہ اس لیے ہے تا کہ وہ مجھے آزمائے کہ اُس کو پا کر میں شکر و اعتراف کا اظہار کرتا ہوں یا اُس کی ناشکری کر کے سرکش اور متکبر بن جاتا ہوں ۔
قرآن کی سورہ نمبر 22 میں ارشاد ہوا ہے : ’’ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کو اگر ہم زمین میں غلبہ دیں تو وہ نماز کا اہتمام کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے ۔ اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے ‘‘ ( الحج : 41 ) ۔
اس آیت میں تمکین کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ اس سے مراد سیاسی اقتدار ہے ۔
سیاسی اقتدار پانے کے بعد جن کاموں کو مسلمانوں کا کام بتایا گیا ہے ، وہ آیت کے الفاظ کے مطابق یہ ہیں — اقامت صلوٰۃ ، ایتاء زکوٰۃ ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ۔
یہ کل چار کام ہیں ۔ یہ چاروں کام وہ ہیں جن کا کوئی براہ راست تعلق ، سیاسی اقتدار سے نہیں ۔ ان چاروں کاموں کے بارے میں یہ مطلوب ہے کہ وہ ہر مسلم معاشرے میں اور ہمیشہ جاری رہیں ، پھر یہاں ان کاموں کو سیاسی اقتدار کے ساتھ کیوں بیان کیا گیا ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی اقتدار پانے کے بعد بھی مسلمانوں کو وہی کام جاری رکھنا ہے جو وہ سیاسی اقتدار کے بغیر کر رہے تھے ، یعنی سچے اہل ایمان کو اگر سیاسی اقتدار مل جائے تب بھی وہ گھمنڈ میں نہیں پڑیں گے ، وہ سرکشی نہیں کریں گے ، وہ اقتدار کو کسی غلط کام میں استعمال نہیں کریں گے ، بلکہ وہ اُنھیں دینی کاموں کو جاری رکھیں گے جو وہ اقتدار سے پہلے کر رہے تھے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں اقتدار کی حیثیت اُس کے اضافی حصہ (relative part) کی ہے۔ جہاں تک اصل اسلام کا تعلق ہے، وہ تقویٰ اور عبادت اور اخلاقیات پر قائم ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے، یہ کہنا درست ہوگا کہ اسلام اپنی نوعیت کے لحاظ سے روحانی نظام (spiritual system) سے قریب تر ہے، نہ کہ سیاسی نظام (political system) سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues