Al-Risala · April 2009 · page 42

بل تو اپنا بل

الرسالہ، اپریل ۲۰۰۹، صفحہ ۴۲

سوال و جواب سوال الرساله ،ستمبر 2008 میں آپ نے’’معرفتِ حدیث ،معرفتِ قرآن‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ اس کو حاصل کرنے کے لیے کثرتِ مطالعہ اور کثرتِ دعا کی ضرورت ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے، کثرتِ مطالعہ کے بجائے کثرتِ دعوت الی اللہ ،اور دعا ہے۔ کیوں کہ صحابہ کو کثرتِ مطالعہ حاصل نہیں تھا۔ دن کو دعوت اور رات کو دعا سے اُن کو اللہ نے معرفتِ حدیث و معرفت قرآن کا حصہ عطا فرمایا تھا۔ میں صرف اِس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے آپ کو یہ تحریر لکھ رہا ہوں ۔ میں آپ کا ہم فکر ہوں ،ہم خیال ہوں۔ الرسالہ کے علاوہ ،کوئی دوسرا مجلہ پابندی سے نہیں پڑھتا۔ (حکیم محمد صفدر شریف عمری ، تمل ناڈو)۔

جواب

دین کا ایک ظاہری علم ہے۔ یہ علم قرآن اور حدیث کے سادہ مطالعے سے حاصل ہو جاتا ہے۔ دین کے علم کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق دین کی گہری معرفت سے ہے۔ یہ معرفت غور و فکر کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ اِس غور و فکر کی مختلف قسمیں ہیں۔ مثلاً محاسبۂ خویش ایک غور و فکر ہے۔ کائنات کا مشاہدہ ایک غور و فکر ہے۔ قرآن اور حدیث کا تحقیقی مطالعہ ایک غور و فکر ہے۔ دعوت الی اللہ کے دوران اپنی عقل کو متحرک رکھنا ایک غور و فکر ہے۔ کتابوں کا مطالعہ بھی غور و فکر کی ایک صورت ہے۔ غور و فکر کے اس عمل میں اللہ سے مدد چاہنے کا نام دعا ہے۔ دعا کا تعلق ہر دوسرے عمل سے ہے اور اسی طرح معرفت سے بھی۔ اصحابِ رسول بظاہر کتابوں کا مطالعہ نہیں کرتے تھے۔ کیوں کہ اُس زمانے میں آج کی طرح مطبوعہ کتابیں موجود نہیں تھیں۔ لیکن حقیقت مطالعہ اُن کی زندگی میں پوری طرح شامل تھی، اور وہ ہے تفکر، تدبر، تذکر اور توسم، وغیرہ۔ اصحابِ رسول کا ذہن مسلسل طور پر ان چیزوں میں مشغول رہتا تھا۔ مزید یہ کہ ان کے اندر سیکھنے کی طلب بے پناہ حد تک پائی جاتی تھی۔ وہ یہ صلاحیت رکھتے تھے کہ چیزوں کو غیر متعصبانہ ذہن کے ساتھ دیکھیں اور بے لاگ طور پر اس کے بارے میں رائے قائم کر سکیں۔ یہی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2009 All issues

Printed page