بل تو اپنا بل
الرسالہ، اپریل ۲۰۰۹، صفحہ ۴۳
چیزیں مطالعے کا حاصل ہیں، اور اس معنی میں ہر صحابی پوری طرح ایک صاحب مطالعہ انسان تھا۔ سوال اکثر لوگ اور علماء کہتے ہیں کہ علم نجوم سیکھنا گناہ ہے۔ یہ کس حد تک درست ہے۔ جب کہ حدیث میں آیا ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اُس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ وہ کون سا علم ہے۔ علم بہر حال علم ہے۔ وہ علم جو عوامی فلاح و بہبود کے لئے موثر اور فائدہ مند ثابت ہو۔ چوں کہ علم نجوم بھی ایک علم ہے، لہذا آپ سے گزارش ہے کہ آپ اِس سوال کا جواب ارسال فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔ (مولوی ایم ایس بابا تاج، کپواڑہ کشمیر)
جواب
علماء نے علوم کی دو قسمیں کی ہیں—علوم عالیہ، اور علوم آلیہ۔ علوم عالیہ سے مراد شریعت کا علم ہے، اور علوم آلیہ سے مراد وہ علوم ہیں جو معاون علم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ علم نجوم اپنی نوعیت کے اعتبار سے، علوم آلیہ میں شامل ہے۔ اصولی طور پر وہ ایک جائز علم ہے۔ لیکن علم نجوم کے دو دور ہیں۔ ایک قبل از سائنس، اور دوسرا بعد از سائنس۔ سائنس کے ظہور سے پہلے جو علم نجوم دنیا میں رائج تھا، وہ تمام تر توہمات (superstitions) پر مبنی تھا۔ یہ قدیم علم نجوم بلا شبہہ ایک غیر مطلوب علم تھا، عقلی اعتبار سے بھی اور اسلامی اعتبار سے بھی۔ آج اگر کوئی شخص قدیم علم نجوم میں مشغول ہو تو وہ صرف ایک لغو کام میں مشغول ہونے کے ہم معنی ہوگا۔ اور قر آن میں اہلِ ایمان کی یہ صفت بتائی گئی ہے کہ وہ لغو سے اعراض کرتے ہیں۔ (المؤمنون: 3)
موجودہ زمانے میں علم نجوم (astrology) سائنسی اعتبار سے ایک متروک علم بن چکا ہے۔ اب اس معاملے میں جس علم کا رواج ہے، وہ علم فلکیات (astronomy) ہے۔ جدید علم فلکیات ایک خالص سائنسی علم ہے، اور مسلمانوں کو بلاشبہہ اس علم میں درک حاصل کرنا چاہیے، کیوں کہ وہ پورے معنوں میں علوم آلیہ میں شامل ہے۔
علوم عالیہ یعنی شرعی علوم کی اہمیت یہ ہے کہ اُس کے ذریعے ہمیں خدا کی معرفت اور دین کا فہم حاصل
‹ Previous page Next page › Contents of April 2009 All issues