اعظم گڑھ کا سفر
الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۱۲
اعظم گڑھ کا سفر
ایک پروگرام کے تحت ، اعظم گڑھ (یوپی) کا سفر ہوا۔ میرے سوا اس سفر میں ہماری ٹیم کے پانچ افراد اور شریک تھے— مولانا محمد ذکوان ندوی ، مسٹر رامش صدیقی، سعد یہ خان، نغمہ صدیقی ، ڈاکٹر فریدہ خانم۔ ہم لوگ 29 دسمبر 2008 کی شام کو دہلی سے اعظم گڑھ گئے، اور 2 جنوری 2009 کو دہلی واپس آئے۔ یہ سفر دہلی- اعظم گڑھ ایکسپریس کے ذریعے ہوا۔ دہلی سے اعظم گڑھ کی مسافت تقریباً آٹھ سو کلومیٹر ہے۔ اس سفر کا انتظام مسٹر شکیل احمد خاں (مقیم شارجہ) نے کیا تھا۔ اعظم گڑھ میرا وطن ہے۔ وہاں میرے خاندان کے کچھ لوگ رہتے ہیں۔ ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے یہ سفر ہوا۔ پچھلے تقریبا پچاس برس سے میرا طریقہ یہ تھا کہ میں شادیوں میں شرکت نہیں کرتا تھا۔ کیوں کہ میں شادیوں میں شرکت کو وقت کا ضیاع سمجھتا تھا۔ حال میں مجھے ایک حقیقت کی دریافت ہوئی جو لمبی مدت سے مجھ پر مخفی تھی ، وہ یہ کہ شادی کی تقریب دو چیزوں کا نام ہے—ایک، شادی اور دوسرے، اجتماع (gathering)۔ میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ ان دونوں پہلوؤں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھنا چاہیے۔ شادی کی تقریب اور اس کی دھوم سے اب بھی مجھے کوئی دل چسپی نہیں۔ لیکن ایسے موقع پر لوگوں کا جو اجتماع ہوتا ہے، وہ ایک داعی کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی نظریے کے تحت ہم لوگ وہاں گئے۔ ہمارے ساتھ پانچ کارٹن میں اسلامی لٹریچر تھا۔ ہمارے ساتھیوں نے وہاں لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور اُن کو ہمارے یہاں کی مطبوعہ اسلامی کتابیں پڑھنے کے لیے دیں۔ دہلی سے اعظم گڑھ کے لیے ہمارا سفر جس ٹرین کے ذریعے ہوا، اُس کا نام "کیفیات ایکسپریس" تھا۔ ٹرین کا یہ نام اعظم گڑھ کے ایک مسلم شاعر کیفی اعظمی (وفات: 2002) کے نام پر رکھا گیا ہے۔ وہ مشہور فلم اسٹار شبانہ اعظمی کے والد تھے۔ اس ٹرین کے ذریعے دہلی اور اعظم گڑھ کے درمیان پہلی بار براہ راست سفر ممکن ہو گیا ہے۔
حال میں پاکستان کی ایک ٹیلی ویژن کمپنی (Geo TV) نے ٹیلی فون پر میرا ایک انٹرویو