Al-Risala · May 2009 · page 3

اعظم گڑھ کا سفر

الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۳

ریکارڈ کیا۔ اُن کا ایک سوال یہ تھا کہ انڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ بہت زیادہ تعصب کیا جاتا ہے۔ اس کا ثبوت انھوں نے یہ دیا کہ شبانہ اعظمی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ میں نے بمبئی کے ہندو علاقے میں ایک رہائشی فلیٹ لینا چاہا تھا، لیکن اُس کے مالکان نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ہم کسی مسلمان کو فلیٹ نہیں دے سکتے۔

میں نے انٹرویو سے کہا کہ یہ اشتعال انگیز حد تک بے معنی بات ہے۔ شبانہ اعظمی اور ان کی فیملی نہایت عزت کے ساتھ انڈیا میں رہتی ہے۔ ان کو کئی نیشنل ایوارڈ دیا گیا ہے۔ اُن کے والد کے نام پر باقاعدہ ایک ایکسپریس ٹرین جاری کی گئی ہے۔ ایسی حالت میں اُن کا یہ کہنا بالکل لغو بات ہے۔ اور اگر بالفرض ایسا کوئی واقعہ بمبئی میں پیش آیا ہو تو وہ ایک استثناء (exception) ہوگا، اور ایک استثنائی واقعے کو جنرلائز (generalize) کرنا بلا شبہ ایک مجرمانہ فعل کی حیثیت رکھتا ہے۔ دہلی سے ہم لوگ شام کو تقریباً آٹھ بجے روانہ ہوئے اور اگلے دن بارہ بجے اعظم گڑھ پہنچے۔ اس سفر میں میرے ساتھیوں نے کئی لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور اُنھیں اسلامی لٹریچر دیا۔ ان میں ٹرین کاٹکٹ کلیکٹر بھی شامل ہے۔ ہماری ٹیم کے لیے یہ سفر عملاً سفری کلاس (class on wheel) کے ہم معنی تھا۔ میں اپنے ساتھیوں سے مختلف قسم کے موضوعات پر بات کرتا رہا۔ ایک موضوع یہ تھا کہ کنڈیشننگ اور ڈی کنڈیشننگ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ ہر عورت اور مرد کے ساتھ یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ ماحول کے اثر سے کوئی منفی یا غیر منفی یا غیر واقعی بات اس کے ذہن میں آجاتی ہے۔ آدمی اگر اس پر سوچے یا دوسروں سے اس کا چرچا کرے تو وہ بات اس کے تھنکنگ پراس میں شامل ہو جائے گی اور پھر دھیرے دھیرے وہ اس کے ذہن کا ایک مستقل جز بن جائے گی۔ اسی کا نام کنڈیشننگ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس قسم کی بات کو فوراً ہی اپنے ذہن سے نکال دے۔ ذہن سے نکالنے کی اسی تدبیر کا نام ڈی کنڈیشننگ ہے۔

میں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ حال میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی جو کمپیوٹر سائنس کے ایکسپرٹ ہیں۔ اُن سے میں نے کئی اہم باتیں کہیں، مگر وہ ان کو اخذ (grasp) نہ کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2009 All issues

Printed page