Al-Risala · May 2009 · page 9

اعظم گڑھ کا سفر

الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۹

مثلاً راستے میں سڑک کے کنارے ایک قدیم اسکول ہے جو مشن اسکول (قائم شدہ 1884ء) کے نام سے مشہور ہے۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن کے زمانے میں ایک بار میں اس اسکول کے سامنے سے گزرا۔ میں نے دیکھا کہ وہاں طلبا کی بھیڑ ہے۔ وہ ایک ونڈو کے سامنے لائن لگائے ہوئے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہاں طلبا کو انعامات تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ خوش فہمی کے تحت میں بھی اس لائن میں کھڑا ہوگیا۔ چلتے ہوئے جب میں ونڈو کے پاس پہنچا تو اندر بیٹھے ہوئے آدمی نے کہا— آئیڈنٹی کارڈ دکھاؤ۔ میں نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی آئیڈنٹی کارڈ نہیں۔ اس کے بعد اُس نے مجھ کو ونڈو سے ہٹا دیا۔ اُس وقت تو میں نے سادگی کے تحت ایسا کیا تھا۔ بعد کو میں نے سوچا کہ ایسا ہی معاملہ آخرت میں پیش آنے والا ہے۔ وہاں بھی لوگوں کو خدا کے انعامات تقسیم کیے جائیں گے۔ بھیڑ کا ہر شخص چاہے گا کہ اس کو یہ خدائی انعام حاصل ہو جائے، اُس وقت ایسا ہوگا کہ کچھ لوگ جن کے پاس استحقاقی کارڈ ہوگا، اُن کو انعام تقسیم کرنے والے فرشتے مبارک باد دیتے ہوئے انعام عطا کریں گے اور بہت سے لوگ وہ ہوں گے جن کے ساتھ استحقاقی کارڈ موجود نہ ہوگا اور وہ اُس دن خدائی انعام کو پانے سے محروم رہ جائیں گے۔ یہ صرف خدا کو معلوم ہے کہ آخرت کے دن کون مستحق قرار پائے گا، اور کون ابدی طور پر استحقاق سے محروم ہو کر قابلِ رَد قرار دے دیا جائے گا۔

آگے بڑھے تو وہ مقام آیا جس کو لال ڈگی کہا جاتا ہے۔ یہاں شہر اور ٹونس (Tawans) ندی کے درمیان ایک لمبا اور اونچا بند ہے جو انگریزی حکومت کے زمانے میں بنایا گیا تھا۔ اس مقام سے میری ایک گہری یادداشت وابستہ ہے۔ اس یاد کو میں نے اپنے ایک مضمون میں اس طرح لکھا تھا: ’’ہم اس وقت ایک ہول ناک طوفان کے سرے پر کھڑے ہیں جس نے چند ہفتوں کے اندر اعظم گڑھ کی تقریباً پانچ سو بستیوں کو ویران کر دیا ہے۔ شہر کا یہ حال تھا کہ دریا کے پانی نے اس کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔ جس کے درمیان پورا شہر بالکل ایک جزیرہ بن گیا تھا۔ بند کے آس پاس رہنے والے لوگ اپنے گھروں کو اس طرح خالی کر رہے تھے کہ اُن کے گھروں کی گرتی ہوئی دیواریں اُن کو رخصت کر رہی تھی۔ اس سیلاب نے پچھلے سو برس کے ریکارڈ توڑ دیے—

‹ Previous page Next page › Contents of May 2009 All issues

Printed page