اعظم گڑھ کا سفر
الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۸
شکایت بلاشبہ عقل کے خلاف بھی ہے اور انسانی شرافت کے خلاف بھی۔
اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک گاؤں ہے۔ اس کا نام پلھنی ہے۔ آزادی سے پہلے کے زمانے میں ایک کوی (شاعر) نے ایک طنزیہ کہانی کو نظم کیا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ اعظم گڑھ کے ایک دیہاتی آدمی نے اپنے بیٹے کو انگریزی تعلیم دلوائی۔ اس کے بعد اُس کے بیٹے کو بمبئی میں ایک اعلیٰ عہدہ مل گیا۔ باپ کو اس خبر سے خوشی ہوئی۔ وہ ٹرین کے ذریعے سفر کر کے بمبئی گیا۔ وہاں جب وہ دفتر میں پہنچا اور اپنے بیٹے سے ملا تو بیٹا اُس وقت سوٹ بوٹ میں ملبوس تھا، اُس نے اپنے دیہاتی باپ سے اس طرح اعراض کیا جیسے کہ وہ اس کو پہچانتا نہیں۔ باپ کو اس واقعے سے بہت تکلیف ہوئی۔ وہ واپس ہو کر بمبئی کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچا، لیکن اُس کے پاس واپسی کا کرایہ نہ تھا۔ اتفاق سے ایک انگریز اُس کو مل گیا۔ انگریز کو اس کی حالت پر ترس آیا۔ اُس نے کہا کہ چلو میں تم کو ٹکٹ دلوا دیتا ہوں۔ اُس نے دیہاتی آدمی سے جگہ کا نام پوچھا۔ اُس نے کہا کہ پلھنی۔ وہ انگریز ونڈو پر گیا اور کلرک سے کہا: اِک ٹکٹ پلھنی کا ہونا مانگتا جس سے بڑھا گھر کو جانا مانگتا یہ بات سن کر کلرک نے کہا کہ پلھنی نام کا تو کوئی ریلوے اسٹیشن موجود نہیں، پھر بڑی مشکل سے معلوم ہوا کہ پلھنی سے مراد اعظم گڑھ ہے۔ انگریز نے اپنی طرف سے پیسہ ادا کر کے اعظم گڑھ کا ایک ٹکٹ لیا اور دیہاتی آدمی کو واپس اعظم گڑھ بھیج دیا۔
اعظم گڑھ کی وجہ تسمیہ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہاں ایک مسلم نواب تھے، اُن کا نام اعظم شاہ تھا۔ اُن کے نام پر تقریباً 1665ء میں شہر اعظم گڑھ بسایا گیا۔ نواب اعظم شاہ کی فیملی کے لوگ اب بھی شہر کے ایک حصے میں رہتے ہیں جس کا نام سدھاری ہے۔ میرے استاد مولانانجم الدین اصلاحی (وفات: 1994) اپنے آخری زمانے میں اِسی سدھاری کی مسجد میں رہتے تھے۔ مولانا نجم الدین اصلاحی کی دو کتا بیں مشہور ہیں— یادگارِ سلف، مکتوباتِ شیخ الاسلام۔
اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن سے ہم لوگ دو بڑی کاروں کے ذریعے قافلے کی صورت میں شہر کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں کئی ایسے مقامات آئے جن سے زمانہ ماضی کی کچھ یادیں تازہ ہوگئیں۔