اعظم گڑھ کا سفر
الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۱۱
مولانا شبلی نعمانی نے اپنی خاندانی زمین اس کو لیے وقف کی تھی اور اس کے لیے اپنے رشتے داروں کے بھی راضی کیا تھا۔ پہلے یہ شبلی نیشنل اسکول کے طور پر قائم ہوا تھا۔ اب ترقی کر کے وہ ایک بڑے ڈگری کالج کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس وقت اُس کے تین بڑے شعبے ہیں— پرائمری اسکول، ہائی اسکول، ڈگری کالج۔ شبلی نیشنل کالج کے گیسٹ ہاؤس میں مولانا نظام الدین اصلاحی اور جامعۃ الفلاح (بلریا گنج) کے کئی اساتذہ ملاقات کے لیے آگئے ۔ اُن سے دیر تک گفتگو ہوئی۔ اسی گیسٹ ہاؤس میں ڈاکٹر خورشید احمد سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی۔
30 دسمبر 2008 کو دوپہر کے کھانے کا انتظام سیتا پور آنکھ اسپتال (ہرّا کی چنگی) کے سامنے ایک مقام پر کیا گیا تھا۔ اس موقع پر بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ۔ ہمارے ساتھیوں نے یہاں ایک بڑے میز پر اردو، ہندی اور انگریزی زبان میں چھپا ہوا دعوتی لٹریچر رکھ دیا۔ لوگوں نے اس کو نہایت شوق سے لیا۔ تھوڑی ہی دیر میں یہ سارا لٹریچر ختم ہو گیا۔ اس موقع پر کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ غیر مسلم حضرات کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر مطالعے کے لیے دیا گیا۔ 30 دسمبر 2008 کو شام کے کھانے کا انتظام ڈاکٹر خورشید احمد کے مکان (9۔ بدرقہ) پر تھا۔ یہ مکان میرے بڑے بھائی عبد العزیز خاں (وفات: 1988) نے بنوایا تھا۔ ایک عرصے تک میرا قیام اسی مکان میں رہا ہے۔ اس مکان سے میری کئی یادیں وابستہ ہیں۔ ایک قابلِ ذکر واقعہ یہاں نقل کیا جاتا ہے— میرے بھائی صاحب نے جب یہ مکان خریدا تو وہاں پڑوس میں ایک ہندو ٹھیکے دار کا مکان تھا۔ دونوں کے درمیان ایک خالی جگہ تھی۔ میرے بھائی نے یہ گھر ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹر گوڑ سے خریدا تھا۔ اُس وقت یہ گھر ناتمام تھا۔ بعد کو میرے بھائی نے موجودہ حالت میں اس کی تعمیر مکمل کرائی۔ اُس گھر سے متصل ایک خالی زمین تھی۔ اس کا رقبہ 27x50 فٹ تھا۔ میرے بھائی کا خیال تھا کہ یہ زمین اُن کی اپنی زمین ہے اور وہ گھر کے ساتھ شامل ہے۔ چناں چہ انھوں نے اس زمین کی گھیرابندی کر کے اُس کو اپنے گھر میں شامل کر لیا اور اس میں کچھ پودے لگا دیے ۔ میرے بھائی کے پڑوس میں ایک ہندو ٹھیکے دار کا مکان تھا۔ انھوں نے اس پر اعتراض کیا۔