اعظم گڑھ کا سفر
الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۱۲
انھوں نے کہا کہ یہ زمین میری ہے۔ آپ کو اس کی گھیرا بندی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس طرح اس زمین پر دونوں کے درمیان ایک نزاع قائم ہوگئی۔
یہ جن سنگھ کا زمانہ تھا۔ ہندو ٹھیکے دار جن سنگھ کے مقامی لیڈروں کے پاس گئے اور اُن سے شکایت کی کہ میرے پڑوس میں ایک مسلمان ہے، اُس نے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ سن کر جن سنگھ کے لوگ بھڑک اٹھے۔ وہ اپنے حامی نوجوانوں کی ایک بھیڑ لے کر ہمارے بھائی کے گھر کے سامنے پہنچ گئے اور سڑک پر کھڑے ہو کر اشتعال انگیز نعرے لگانے لگے۔
اُس وقت ہمارے بھائی کے پاس لائسنس یافتہ دو بندوقیں تھیں، نیز اُن کے آفس میں کام کرنے والے ایک درجن سے زیادہ لوگ اُس وقت وہاں موجود تھے۔ ہمارے بھائی نے نہ بندوق اٹھائی اور نہ اپنے آدمیوں کو ساتھ لیا۔ وہ تنہا باہر نکل کر سڑک پر پہنچے۔ یہاں بھی انھوں نے بھیڑ سے خطاب نہیں کیا، بلکہ پہلا سوال یہ کیا کہ آپ کا لیڈر کون ہے۔ اس کے بعد ایک صاحب آگے آئے۔ اُن کا نام مسٹر سونڈ تھا۔ وہ مجمع کی قیادت کر رہے تھے۔ ہمارے بھائی نے اُن سے سڑک پر کوئی بات نہیں کی۔ انھوں نے مجمع سے کہا کہ آپ لوگ یہاں ٹھہریئے۔ اس کے بعد وہ مسٹر سونڈ کو اپنے ساتھ لے کر اندر دفتر میں آگئے۔ دفتر میں دونوں کرسی پر بیٹھے۔ اس کے بعد بھائی صاحب نے اُن سے بات شروع کی۔ انھوں نے پوچھا کہ آپ لوگ کیوں یہاں آئے۔ مذکورہ لیڈر اُس وقت غصے میں تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو معلوم ہوا ہے کہ آپ نے ہمارے ایک بھائی کی زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس لیے ہم لوگ یہاں آئے ہیں۔ میرے بھائی نے ٹھنڈے انداز میں کہا کہ دیکھیے، زمین پیپر پر ہوتی ہے اور ہمیشہ پیپر ہی سے زمین کا فیصلہ ہوتا ہے۔ آپ ایسا کیجیے کہ زمین سے متعلق میرے پیپر مجھ سے لے لیجیے، اور ٹھیکے دار صاحب کے پاس جو پیپر ہیں، وہ اُن سے لے لیجیے۔ اُس کے بعد آپ اطمینان سے گھر چلے جائیے، پھر آپ ہم دونوں کے پیپر دیکھئے۔ پیپر دیکھنے کے بعد آپ جو فیصلہ کر دیں، وہ مجھ کو منظور ہوگا۔ یہ بات سن کر مسٹر سونڈ کا غصہ ختم ہو گیا۔ وہ اطمینان کے ساتھ باہر آئے۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم لوگ واپس جاؤ۔ خان صاحب نے خود ہم کو جج بنا دیا ہے۔ ہم جو فیصلہ کریں