Al-Risala · May 2009 · page 21

Freedom At Midnight

الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۲۱

30 دسمبر 2008 کو میں اپنی ٹیم کے کچھ افراد کے ساتھ شبلی نیشنل کالج کے گیسٹ ہاؤس میں تھا۔ جامعۃ الفلاح (بلریا گنج، اعظم گڑھ) کے کچھ اساتذہ، مولانا نظام الدین اصلاحی کے ہمراہ ملاقات کے لیے آئے۔ ان حضرات سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ پھر انھوں نے ہم لوگوں کو جامعۃ الفلاح آنے کی دعوت دی۔ میں نے اس دعوت کو قبول کر لیا اور اس کے مطابق، اگلے دن صبح کو مولانا نظام الدین اصلاحی کے ساتھ جامعۃ الفلاح کا سفر ہوا۔

جامعۃ الفلاح عربی اور دینی تعلیم کا ایک مشہور ادارہ ہے۔ جامعۃ الفلاح پہنچ کر اس کے مختلف شعبوں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا اور یہاں اساتذہ اور طلباسے ملاقاتیں ہوئیں۔ اس تعلیمی ادارے کا آغاز 1954 میں ایک معمولی مکتب سے ہوا تھا۔ اس کے بعد حکیم محمد ایوب (وفات: 2004) اور دوسرے اصحاب کی مسلسل کوشش سے وہ اب ایک بڑے جامعہ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس وقت جامعہ کے دو بڑے حصے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں۔ ایک حصے کا تعلق طلبا سے ہے، اور دوسرے حصے کا تعلق طالبات سے۔ دونوں میں عالمیت اور فضیلت تک تعلیم ہوتی ہے۔ طلبا کی مجموعی تعداد تقریبا چار ہزار ہے۔ طلبا کے مقابلے میں طالبات کی تعداد زیادہ ہے۔ جامعۃ الفلاح میں میرے دو خطابات ہوئے۔ ایک، طلبا کے درمیان اور دوسرا، طالبات کے درمیان۔ طلبا سے خطاب کا انتظام یہاں کے بڑے ہال میں کیا گیا تھا۔ طلبا اور اساتذہ دونوں یہاں موجود تھے اور پورا ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ طلبا کے سامنے خطاب کرتے ہوئے میں نے جو کچھ کہا، اُس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔

میرے سامنے نو جوان طلبا بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے کہا کہ جب میں نو جوانوں کو دیکھتا ہوں تو میرا دل بھر آتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ خدا نے نوجوانوں کی شکل میں اپنی زمین پر کچھ پھول کھلائے ہیں۔ خدا چاہتا ہے کہ یہ پھول مہکیں اور دنیا کو اپنی خوش بو سے معطر کر دیں۔ میں نے کہا کہ اس مدرسے کا نام الفلاح ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کسی مدرسے کا سب سے زیادہ درست نام ہے۔ کیوں کہ مدرسہ آدمی کو حقیقی فلاح کا راز بتاتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کو سب سے پہلے شعوری طور پر یہ جاننا چاہیے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2009 All issues

Printed page