Al-Risala · May 2009 · page 20

Freedom At Midnight

الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۲۰

کی ترجمانی کرتا ہے۔ مومن کبھی دوسروں کی تعریف سے غلط فہمی میں نہیں پڑتا۔ عین اُس وقت جب کہ لوگ اس کی تعریف کر رہے ہوتے ہیں، اس کی اندرونی نفسیات اُس کو اپنی بے حقیقتی یاد دلاتی ہے۔ ڈاکٹر محمد اقبال (وفات: 1938) کو دار المصنفین سے اور مولانا سید سلیمان ندوی سے گہرا تعلق تھا۔ اقبال کا خیال تھا کہ اُخروی جنت ایک روحانی جنت ہے۔ ڈاکٹر اقبال نے اپنی کتاب ’’تشکیلِ جدید الہیاتِ اسلامیہ‘‘ میں لکھا ہے کہ ـــ جنت اور جہنم احوال ہیں، مقامات نہیں: Heaven and Hell are states, not localities. ڈاکٹر اقبال اور سید صاحب کے درمیان ایک بار جنت کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ اقبال کا کہنا تھا کہ جنت روحانی ہے۔ اس کے برعکس، سید صاحب کہتے تھے کہ جنت مادی ہے۔ کافی بحث کے بعد دونوں کے درمیان اتفاق نہ ہوسکا۔ آخر کار، سید صاحب نے کہاـــ ٹھیک ہے، آپ اپنی روحانی جنت میں جایئے گا اور ہم ان شاء اللہ اپنی مادی جنت میں جائیں گے۔

جنت کے بارے میں اقبال کا مذکورہ نظریہ صرف ایک فلسفیانہ تصور تھا، حقیقت سے اُس کا کوئی تعلق نہیں۔ قرآن کے واضح بیانات اس تصور کے خلاف ہیں۔ مثلاً قرآن کی سورہ نمبر 2 میں ارشاد ہوا ہے: ’’اور خوش خبری دے دو اُن لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک کام کیے، اِس بات کی کہ اُن کے لیے ایسے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ جب بھی اُن کو اُن باغوں میں سے کوئی پھل کھانے کو ملے گا، تو وہ کہیں گےـــ یہ وہی ہے جو اس سے پہلے ہم کو دیا گیا تھا۔ اور ملے گا اُن کو اس سے ملتا جلتا‘‘ (البقرہ: 25)۔

حقیقت یہ ہے کہ روحانی جنت کا تصور قرآن کے خلاف بھی ہے اور انسانی فطرت کے خلاف بھی۔ یہ خدا کی رحمت سے بعید ہے کہ وہ دنیا میں مومن کو ایسی ذمے داریوں میں ڈالے جس کو انجام دینے کے لیے اُس سے مادی نعمتیں چھوٹ جائیں، لیکن آخرت میں جب وہ مومن کو اس کے عمل کا انعام دے تو وہ صرف پر اسرار روحانی جنت کی شکل میں ہو۔ مادی قربانی کا انعام بھی مادی نعمت کی صورت میں ہونا چاہیے۔ یہ انسانی فطرت کا ایسا تقاضا ہے جس سے کوئی بھی شخص مستثنیٰ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2009 All issues

Printed page