My way is to begin from the beginning.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۲۳
کبھی یہ بات نہیں کہی تھی۔ اس کے باوجود عائشہ نے رسول اللہ کی پالیسی کے بارے میں اس اہم اصول کو اخذ کیا۔ اس قسم کی اخذئیت کا ثبوت کسی مرد کے یہاں نہیں ملتا۔ میں نے کہا کہ انگریزی کا ایک مقولہ ہے— لیڈ یز فرسٹ (ladies first)— اس مقولے کی سب سے اعلیٰ مثال پیغمبرانہ تاریخ میں ہے، اور وہ حضرت ہاجرہ کی مثال ہے۔ یہ دراصل ہاجرہ کی عظیم قربانی تھی جس کے ذریعے ہیروؤں کی وہ نسل (nation of heroes) ظہور میں آئی جس میں رسول اور اصحاب رسول جیسے اعلیٰ افراد پیدا ہوئے۔ یہ ایک عظیم تاریخی عمل (process) تھا جس کا آغاز ایک عورت کی بے مثال قربانی سے ہوا۔
میں نے کہا کہ ہر عورت کے لیے اس دنیا میں ایک بڑا رول مقدر ہوتا ہے۔ اس رول کو ادا کرنے کی صرف ایک خاص شرط ہے، اور وہ ہے اپنے آپ کو ڈسٹریکشن (distraction) سے بچانا۔ ہر وہ چیز جو آپ کو اپنے مقصدِ اعلیٰ کی طرف کامل توجہ دینے سے ہٹائے، وہ ڈسٹریکشن کا ذریعہ ہے۔ مثلاً شاپنگ، آؤٹنگ، فیشن، تقریبات اور اولاد، وغیرہ۔ اسلام کے مطابق، اولاد ایک آزمائش (التغابن: 15) ہے۔ اولاد کے بارے میں والدین کی ذمے داری اُن کی حقیقی ضرورت کو پورا کرنا ہے، نہ کہ اُن کو قلبی محبت کا مرکز بنانا۔ قلبی محبت کا مرکز صرف خدا وند ذوالجلال ہے، نہ کہ اولاد۔ ہر انسان کے اندر پلس پوائنٹ کے ساتھ ایک مائنس پوائنٹ ہوتا ہے۔ یہی معاملہ عورت کا ہے۔ عورت کے اندر پلس پوائنٹ کے ساتھ ایک مائنس پوائنٹ موجود ہے، اور وہ اُس کا آرائش پسندانہ مزاج ہے۔ عورت کو اپنی اِس کم زوری کے بارے میں شعوری طور پر زیادہ بیدار ہونا چاہیے۔ ورنہ ایسا ہوگا کہ عورت کے اوپر اُس کا آرائش پسندانہ مزاج غالب آجائے گا اور وہ زندگی میں اپنا تعمیری رول ادا کرنے سے قاصر رہے گی۔
جامعۃ الفلاح کے پروگرام میں شرکت کے بعد ہم لوگ بذریعہ کار بڑھریا گئے۔ اعظم گڑھ شہر سے بڑھریا کا فاصلہ 27 کلومیٹر ہے۔ بڑھریا میرا آبائی وطن ہے۔ راستے میں سڑک کے کنارے چند مقامات آئے۔ اُن میں سے ایک پھر یہا تھا۔ پھر یہاں اعظم گڑھ کا وہ گاؤں ہے جہاں 1863 میں مشہور