My way is to begin from the beginning.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۲۴
مفسر قرآن مولا نا حمید الدین پیدا ہوئے ۔ مولا نا حمید الدین نے پھریہا کی تعریب کر کے اُس کو فراہا بنایا اور پھر اس میں یائے نسبت شامل کر کے اپنے نام کے ساتھ فراہی لکھنا شروع کیا۔ تعریب کا یہ ذوق اس علاقے میں کافی بڑھا اور کئی گاؤں کے لوگوں نے اس کی تقلید کی ۔ مثلاً سیدھا کے لوگ اپنے کو مستقیمی لکھنے لگے۔ چھاؤں کے لوگ اپنے کوظلی لکھنے لگے۔ اساڑھاکے لوگ مطری لکھنے لگے، وغیرہ۔ مولا نا حمید الدین فراہی کا انتقال 1930 میں ہوا۔ میں نے اُن کو دیکھا نہیں۔ لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اُن کے دو خاص شاگردوں سے مجھے حصولِ علم کا موقع ملا مولا نا امین احسن اصلاحی (وفات : 1998)، اور مولانا اختر احسن اصلاحی (وفات: 1985)۔ مولا نا حمید الدین فراہی کے بارے میں کئی لوگوں نے اُن کے مختصر تذکرے شائع کیے ہیں ۔ مثلاً سید سلیمان ندوی ، مولا نا امین احسن اصلاحی، وغیرہ۔ لیکن مولا نا حمید الدین فراہی پر زیادہ جامع کتاب ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی (مقیم اسلام آباد، پاکستان) نے ” ذکر فراہی‘ کے نام سے شائع کی ہے ۔ یہ کتاب 840 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کی تیاری میں تقریباً 18 سال صرف ہوئے ہیں۔ میرے پاس کتاب کا وہ نسخہ ہے جو 2001 میں دائرہ حمیدیہ (مدرسۃ الاصلاح، سرائے میر، اعظم گڑھ) سے شائع ہوا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس کتاب کا ایک ایڈیشن دار التذکیر (لاہور) نے شائع کیا ہے۔ اس میں مصنف نے کچھ اضافے بھی کیے ہیں۔ پھریہا کا گاؤں ایک سڑک کے کنارے واقع ہے۔ یہ سڑک انگریزوں کے زمانے میں بنائی گئی تھی۔ لیکن پھریہا سے ہمارے گاؤں تک پختہ سڑک نہ تھی ۔ اب یہاں اچھی سڑک بن گئی ہے۔ ہماری گاڑی اس سڑک پر گزرتے ہوئے وہاں پہنچی جہاں گنورندی واقع ہے۔ یہ ندی ہمارے گاؤں کی سرحد پر ہے۔ اس ندی کے اوپر ایک پل ہے ۔ اُس وقت یوپی میں پہلی بار برطانی اقتدار کے تحت کانگریسی وزارت بنی تھی ۔ مولا نا اقبال احمد خاں سہیل اس صوبائی اسمبلی کے ایک رکن تھے ۔ اُن کی کوششوں سے 1937 میں یہاں ایک پل بنایا گیا۔
اُس وقت میں نوجوانی کی عمر میں تھا۔ یہ پل بنا تو میں نے اس کے بارے میں یہ شعر لکھا تھا: بحمد للہ کہ ایں جسر عظیم الشاں مکمل شد زسعی مولوی اقبال احمد خاں مکمل شد