Al-Risala · May 2009 · page 45

پوُ سے سیٹی دیا اور پھر چل پڑی

الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۴۵

صورت میں تھے۔ وہ اُسی وقت ریکارڈ کر لیے گئے۔ ڈاکٹر احمد صفی انصاری اِس پورے سفر میں ہمارے ساتھ تھے۔ اُن کا پورا تعاون ہم کو حاصل تھا۔

یکم جنوری 2009 کی شام کو عصر کے بعد اعظم گڑھ سے دہلی کے لیے روانگی کا پروگرام تھا۔ لیکن معلوم ہوا کہ ”کیفیات ایکسپریس“ بہت زیادہ لیٹ ہے۔ اِس لیے ڈاکٹر احمد صفی انصاری کی دعوت پر ہم لوگ گیسٹ ہاؤس سے روانہ ہو کر اُن کے مکان، محلہ ریڈو پور پہنچے۔ یہ مکان شہر کے کنارے کھلی جگہ پر واقع ہے۔ یہاں پہنچ کر ہم لوگوں نے رات کا کھانا کھایا۔ یہاں ہماری ٹیم کے لوگوں کے علاوہ خاندان کے کئی افراد اکٹھا ہو گئے۔ اُن کے سامنے مختلف موضوعات پر دیر تک بات ہوتی رہی۔ میں نے جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ اکثر لوگ پُرخوری (overeating) کا شکار رہتے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ مولانا اشرف علی تھانوی (وفات: 1943) سے اُن کے ایک شاگرد نے پوچھا کہ آپ اکثر کم خوری کی نصیحت کرتے ہیں۔ اِس کا طریقہ کیا ہے۔ کیسے آدمی کو یہ معلوم ہو کہ اُس نے ضرورت کے بقدر کھانا کھا لیا ہے اور اب مزید کھانا پُرخوری کہلائے گا۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے کہا کہ کھانا کھانے کے دوران ایک مرحلہ آتا ہے، جب کہ آدمی کا دل چاہتا ہے کہ مزید کھانا کھائیں یا نہ کھائیں۔ یہی مرحلہ کم کھانے کا مرحلہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اُس وقت اپنا ہاتھ روک لے اور مزید کھانا نہ کھائے۔

مولانا اشرف علی تھانوی کی یہ بات بالکل درست تھی۔ اِس معاملے میں سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آدمی جب کھانا کھاتا ہے اور ضرورت کے بقدر اس کا پیٹ بھر جاتا ہے تو شعوری طور پر فوراً اِس کو اس کی خبر نہیں ہوتی۔ شکم سیری کے معاملے کو شعوری طور پر سمجھنے میں تقریباً بیس منٹ لگ جاتے ہیں: It takes your body about 20 minutes to signal to your brain that it is full. So eat slowly, and stop when you feel half full. (The Times of India, September 28, 2007)

یہاں ایک مسلم نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ایک صاحب کی بہت تعریف کی جوان کے نزدیک موجودہ زمانے میں اسلام کے سب سے بڑے ہیرو ہیں۔ یہ صاحب تقریریں کرتے ہیں اور اپنی

‹ Previous page Next page › Contents of May 2009 All issues

Printed page