پوُ سے سیٹی دیا اور پھر چل پڑی
الرسالہ، مئی ۲۰۰۹، صفحہ ۴۴
کہ لوگ اپنے قدموں کے نیچے نہیں دیکھتے۔ وہ اپنے آس پاس کی دنیا کو دیکھ کر رائے نہیں بناتے۔ وہ دور کی خبروں کو لے کر اپنی رائے بناتے ہیں۔ اس بنا پر وہ دیکھتے ہوئے بھی نہ دیکھنے والے بن جاتے ہیں۔ جاننے کے باوجود نہ جاننے والوں کی طرح بولنے لگتے ہیں۔ یہ انسان کی عجیب کم زوری ہے کہ منفی باتیں اس کو خوب دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن مثبت باتوں کو دیکھنے کے لیے وہ اندھا بن جاتا ہے۔ چھاؤں کے فارم ہاؤس کا موجودہ استعمال صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کے لیے مفت تفریح (free entertainment) کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ عزیزوں اور دوستوں کے علاوہ، ممتاز افراد بھی یہاں آتے ہیں اور تفریح کے کچھ لمحات گزار کر چلے جاتے ہیں۔ میرا احساس ہے کہ یہ اس مقام کا صرف ایک کم تر استعمال ہے۔ موجودہ زمانے کے اعتبار سے اس مقام کو کوئی تعمیری مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً یہاں ایک معیاری اسکول قائم کیا جائے، جیسا کہ بڑھریا میں قائم کیا گیا ہے، یا یہاں ایک اچھا اسپتال بنایا جائے جہاں جدید طرز پر لوگوں کے لیے علاج کا انتظام ہو، وغیرہ۔ موجودہ زمانے میں صنعتی کثافت (industrial pollution) کی بنا پر شہروں کی فضا نہایت خراب ہو گئی ہے۔ لوگ مجبورانہ طور پر شہروں میں رہتے ہیں، ورنہ عام طور پر شہروں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ شہر اب رہنے کے قابل نہیں ہیں۔ ایسی حالت میں اگر فطرت کی اس دنیا میں اسکول اور اسپتال جیسی چیزیں بنائی جائیں تو لوگ دور دور سے یہاں آئیں گے۔ وہ اس کی بڑی بڑی قیمت دے کر اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ اس طرح اس مقام پر جب لوگوں کا آنا جانا ہونے لگے گا تو اُس سے ایک اور زیادہ بڑے فائدے کے مواقع نکل آئیں گے اور وہ ہے دعوت الی اللہ، یعنی یہاں آنے اور جانے والوں کے درمیان دعوتی ملاقاتیں، یہاں دعوتی لکچر کا انتظام، دعوت کے مقصد کے تحت لائبریری اور ریڈنگ روم، لوگوں کو دعوتی کتابیں فراہم کرنا، وغیرہ۔
دوپہر کے کھانے کے بعد ہم لوگ چھاؤں سے اعظم گڑھ کے لیے روانہ ہوئے۔ شہر میں داخل ہونے کے بعد ہم لوگ شبلی نیشنل کالج کے گیسٹ ہاؤس میں پہنچے۔ یہاں پہنچ کر ہم لوگوں نے ظہر کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد میں نے مختلف نشستوں میں اپنے کچھ تجربات بیان کیے ۔ یہ تجربات تقریر کی