زرعی دور، صنعتی دور
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۲۳
زرعی دور، صنعتی دور
تاریخ کو اقتصادی اعتبار سے دو بڑے دوروں میں تقسیم کیا جاتا ہے، زرعی دور(agricultural age) اور صنعتی دور (industrial age)۔ دونوں دوروں میں ایک بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ زرعی دور میں، انسانی اقدار (human values) بڑے پیمانے پر پائی جاتی تھیں۔ موجودہ صنعتی دور میں انسانی اقدار کا تقریباً خاتمہ ہو گیا ہے۔ پچھلے دور میں عام طور پر لوگ دوسرے انسانوں کے لیے ہمدردی کے جذبات رکھتے تھے۔ اب ہر شخص محو بالذات (self centred) نظر آتا ہے۔
اس فرق کا سبب بنیادی طور پر یہ ہے کہ زرعی دور میں انسان دیکھتا تھا کہ وہ تھوڑی سی محنت کرتا ہے اور اس کے بعد جو پیدا وار حاصل ہوتی ہے اس میں سارا حصہ زمین کا یا نیچر کا ہوتا ہے۔ موجودہ زمانے میں بظاہر اس کے برعکس معاملہ نظر آتا ہے۔ اب انسان یہ دیکھتا ہے کہ اپنی پوری زندگی کے بڑے حصہ میں وہ اپنا کیریئر بنانے کے لیے محنت کرتا ہے۔ اور پھر اس کو جو کچھ ملتا ہے وہ بظاہر اس کی اپنی محنت اور لیاقت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پہلے زمانے کا انسان شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھتا تھا کہ اس کو جو کچھ حاصل ہو رہا ہے، وہ کسی اور کے دینے سے حاصل ہو رہا ہے۔ اس کے برعکس، آج کا انسان محسوس کرتا ہے کہ اے سے زیڈ تک، سب کچھ، وہ اپنی لیاقت کے ذریعے حاصل کر رہا ہے۔
اسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ پہلے زمانے میں لوگوں کے اندر خلق خدا کے لیے ہمدردی پائی جاتی تھی ۔ مگر آج کے انسان کا حال یہ ہے کہ وہ خود غرضی کے انداز کے سوا کسی اور انداز میں سوچنا نہیں جانتا۔ پہلے زمانے کا انسان اپنی پیدا وار میں خالق کا حصہ سمجھتا تھا اور اس کو نکال کر دوسرے انسانوں کو دیتا تھا۔ مگر آج کا انسان جو کچھ کماتا ہے، اس کو وہ کامل طور پر صرف اپنا کارنامہ سمجھتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس احساس میں جیتا ہے کہ جو کچھ میں نے حاصل کیا ہے، وہ صرف میری اپنی محنت کا نتیجہ ہے۔ اس میں کسی دوسرے کا کوئی حق نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues