سب سے بڑی محرومی
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۲۴
سب سے بڑی محرومی
17 ستمبر 2008 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ (نئی دہلی) کے میر تقی میر ہال میں مسلم مسائل پر ایک سیمینار تھا۔ اس میں مسلمانوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ ان میں باریش مسلمان بھی تھے اور بے ریش مسلمان بھی۔ اس کا پورا پروگرام انگریزی زبان میں ہوا۔ میں بھی اس پروگرام میں شریک تھا۔ تمام مقررین نے بلا استثناء، ہندوستانی مسلمانوں کو ایک مظلوم کمیونٹی بتایا۔ ایک صاحب نے کہا کہ انڈیا کے مسلمان محاصرہ (siege) کی حالت میں ہیں۔ ہر ایک نے مختلف الفاظ میں، مسلمانوں کی نسبت سے اسی قسم کی منفی باتیں کیں۔ میں غم کے احساس میں ڈوبا ہوا لوگوں کی باتیں سن رہا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ میں پہلی بار 1943 میں دہلی آیا تھا۔ اُس وقت میں نے پہلی بار جامعہ ملیہ اسلامیہ کو دیکھا۔ اُس وقت کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ذاکر حسین (وفات: 1969) سے بھی میری ملاقات ہوئی۔ اُس وقت جامعہ ایک معمولی کالج کی طرح تھا۔ نامنظور ادارہ ہونے کی بنا پر اس کی ڈگری کی بھی جاب مارکیٹ میں کوئی ویلیو نہیں تھی۔ آج 65 سال بعد یہاں جامعہ ملیہ کے نام سے ایک عالی شان یونی ورسٹی بنی ہوئی ہے۔ پہلے کے مقابلے میں آج جامعہ ملیہ اسلامیہ نے تقریباً سو گنا ترقی کی ہے۔ اس کی یہ تمام ترقیاں آزادی کے بعد نئے انڈیا میں ہوئی ہیں۔
مذکورہ سیمینار جامعہ کے ایک شان دار ہال میں ہوا۔ اس ماحول میں لوگوں کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ جامعہ ملیہ علامتی طور پر یہ بتا رہا ہے کہ اس ملک میں مسلمان مسلسل ترقی کر رہے ہیں، یہ صورتِ حال شکر کا تقاضا کرتی ہے، پھر کیوں ایسا ہوا کہ ایک ترقی یافتہ مسلم ادارے میں بیٹھ کر لوگ اس طرح ناشکری کی باتیں کر رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ لوگوں کے اندر خدا کا خوف نہیں، ورنہ حدیثِ رسول کے مطابق، انھیں ڈرنا چاہیے کہ اگر اِن کے اندر شکرِ انسانی نہ ہو تو وہ شکرِ خداوندی کے جذبے سے محروم ہو جائیں گے۔ اور بلاشبہہ شکرِ خداوندی کے جذبے سے محرومی سب سے بڑی محرومی ہے۔ اس حقیقت کو ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَمْ يَشْكُرِ الله (مسند احمد، جلد 4، صفحہ (278) یعنی جو آدمی انسان کا شکر گز ار نہ ہو، وہ خدا کا بھی شکر گز ار نہیں ہو سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues