Al-Risala · June 2009 · page 4

تعلّم ایمان ، تعلّم قرآن

الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۴

تعلّم ایمان ، تعلّم قرآن

حضرت جندب بن عبداللہ بجلی سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ : کنّا مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم ونحن فتیان حزاورة، فتعلمنا الإيمان قبل أن نتعلم القرآن، ثم تعلمنا القرآن فازددنا به إيماناً (ابن ماجه، مقدمه؛ حياة الصحابه، (3/176) یعنی ہم کچھ نوجوان لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے۔ ہم نے آپ کے ساتھ رہ کر ایمان سیکھا، اس سے پہلے کہ ہم قرآن کو سیکھیں۔ اس کے بعد ہم نے قرآن کو سیکھا تو اُس کے ذریعے ہمارے ایمان میں اضافہ ہوا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہمارا ذہن بنایا، اور جب ہمارا ذہن بن گیا تو آپ نے ہم کو قرآن کی تعلیم دی۔ کسی بھی چیز کو سمجھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی کے اندر سمجھنے والا ذہن موجود ہو۔ بنا ہوا ذہن ہی کسی چیز کو سمجھ پاتا ہے۔ اگر ذہن بنا ہوا نہ ہو تو کوئی بھی چیز آدمی کو سمجھ میں نہیں آئے گی۔ مذکورہ حدیث میں تعلّم ایمان سے مراد تعلم معرفت ہے، یعنی قرآن کے مطابق ، اپنا ذہن بنانا۔ اس ابتدائی شرط کو پورا کیے بغیر قرآن کو حقیقی طور پر سمجھا نہیں جاسکتا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کو جاننے کا اصل ذریعہ قرآن ہے۔ لیکن قرآن کو سمجھنے کے لیے قرآن کے مطابق ذہن ہونا ضروری ہے۔ دورِ اول کے مسلمان جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہتے تھے تو ہر موقع پر آپ اُنھیں نصیحت کی کوئی بات بتاتے تھے۔ اس طرح صحبت کے ذریعے اُن کی ذہن سازی ہوتی رہتی تھی۔ اس کی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ جب وہ قرآن کو پڑھیں تو وہ قرآن کو اس کی اصل اسپرٹ کے ساتھ سمجھتے جائیں ، قرآن اُن کے ذہن میں پوری طرح بیٹھتا چلا جائے ۔ جیسا کہ معلوم ہے ، صحابہ کی مادری زبان وہی تھی جو قرآن کی زبان ہے ، یعنی عربی زبان۔ اس کے باوجود یہ ضرورت پیش آئی کہ پہلے اُن کا ذہن بنایا جائے ، اس کے بعد اُن کو قرآن سکھایا جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے صرف قرآن کی زبان جاننا کافی نہیں ہے۔ بلکہ اٗس کے ساتھ لازمی طور پر یہ بھی ضروری ہے کہ قاری کے اندر مطلوب ذہن موجود ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues

Printed page