تقویٰ کیا ہے
الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۵
تقویٰ کیا ہے
روایات میں آیا ہے کہ حضرت عمر فاروق نے حضرت ابی بن کعب سے پوچھا کہ تقویٰ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کیا آپ کبھی کانٹے دار جھاڑیوں والے راستے سے گزرے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ ابی بن کعب نے کہا کہ پھر آپ نے اُس وقت کیا کیا۔ عمر فاروق نے کہا کہ میں نے اپنے کپڑے سمیٹ لیے اور کانٹوں سے بچتا ہوا گزر گیا (شمرت و اجتهدت)۔ ابی ابن کعب نے کہا کہ یہی تقویٰ ہے (قال : فذالك التقوى)۔
اس روایت سے تقویٰ کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ تقویٰ دراصل یہ ہے کہ آدمی اس دنیا میں ہر قسم کے فتنوں سے بچتا ہوا گزر جائے۔ تقویٰ کو ایک لفظ میں محتاط طریقہ (cautious approach) کہا جا سکتا ہے۔ دنیا میں ہر وقت مختلف قسم کی ترغیبات (temptations) ہوتی ہیں، مختلف قسم کے چھوٹے یا بڑے فتنے پائے جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں، تقویٰ کی روش یہ ہے کہ آدمی اُن سے بچتا ہوا گزرے، وہ ہر موقع پر پرہیزگارانہ طریقہ، یا محتاط طریقہ اختیار کرے۔
تقویٰ کی اس روش پر قائم رہنے کے لیے دو چیزیں بہت زیادہ ضروری ہیں۔ سنجیدگی اور محاسبہ، یعنی چیزوں پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا اور ہر وقت اپنا محاسبہ کرتے رہنا۔ یہی دونوں صفتیں اس بات کی ضامن ہیں کہ آدمی تقویٰ کے راستے پر قائم رہے گا، وہ غیر متقیانہ روش اختیار کرنے سے بچارہے گا۔ تقویٰ کسی ظاہری وضع قطع کا نام نہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ تقویٰ کا تعلق دل سے ہے (التقوى ههنا، و يُشير إلى صدره۔ صحیح مسلم، کتاب البرّ) جو آدمی گہرائی کے ساتھ معاملات پر غور کرے گا، وہی تقویٰ کی روش پر قائم رہے گا۔ تقویٰ دراصل میں ایک داخلی کیفیت کا نام ہے۔ داخلی طور پر اگر آدمی متقی نہ ہو تو کوئی بھی خارجی فارم خدا کے نزدیک اُس کو متقی کا درجہ نہیں دے سکتا۔ حدیث میں آیا ہے کہ: إنّ الله لا ينظر إلى أجسامكم ولا إلى صوركم، ولكن ينظر إلى قلوبكم (صحیح مسلم، کتاب البرّ، باب تحريم ظلم المسلم)۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues