Al-Risala · June 2009 · page 7

عمل کی تزئین

الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۷

عمل کی تزئین

ابلیس، انسان کا دشمن ہے۔ لیکن ابلیس کو یہ اختیار نہیں کہ وہ انسان کے خلاف کوئی جارحانہ (aggressive) کارروائی کرے۔ ابلیس کے بس میں صرف ایک چیز ہے، اور وہ ہے انسان کے ذہن میں وسوسہ ڈالنا، انسان کو فکری اعتبار سے بہکانا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے خلاف ابلیس کی کارروائیاں ہمیشہ ذہنی سطح (intellectual level) پر ہوتی ہیں، نہ کہ جسمانی سطح (physical level) پر۔ ابلیس کے فتنوں سے بچنے کے لیے انسان کو ذہنی تحفظ کی ضرورت ہے، نہ کہ جسمانی تحفظ کی۔ شیطان کی وسوسہ اندازی کا طریقہ کیا ہے، اس کو قرآن میں تزئین اعمال (الحجر : 39) کہا گیا ہے، یعنی برے عمل کو خوب صورت بنا کر دکھانا۔ شیطانی تزئین کا یہ عمل کس طرح ہوتا ہے۔ اُس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی عمل کے حق میں ایک بے بنیاد دلیل کو مضبوط دلیل کے طور پر پیش کیا جائے۔ قرآن کے مطابق، ابلیس نے آدم کی تخلیق کے وقت کہا تھا کہ میں تمام انسانی نسل کو بہکاؤں گا۔ میں تمام انسانوں کے ذہن کو اپنی تزئین کے ذریعے متاثر کر کے اُنھیں ایسا بنا دوں گا کہ وہ غلط استدلال کو صحیح استدلال کے روپ میں دیکھیں گے :

I will make people see false argument as valid argument. شیطان کی طرف سے فکری گم راہی کا یہ عمل پوری انسانی تاریخ میں نظر آتا ہے۔ گھریلو زندگی سے لے کر باہر کی زندگی تک ہر جگہ اس کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ مردوں اور عورتوں کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے قول و عمل کے اعتبار سے برائی میں مبتلا رہتے ہیں اور اس کی تبریر (justification) کے لیے وہ خوب صورت الفاظ پالیتے ہیں۔ وہ اپنے منفی عمل کو مثبت الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔ وہ اپنے تخریبی کام کے لیے تعمیری الفاظ پالیتے ہیں۔ وہ اپنی انسان دشمن سرگرمیوں کو انسان دوست سرگرمیوں کا عنوان دے دیتے ہیں۔ اسی کا نام تزئین ہے، اور یہ تزئین ہمیشہ ابلیس کی مدد سے انجام پاتی ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو انسانوں کی اکثریت نے اپنے دشمن کو اپنا دوست بنا لیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues

Printed page