شکایت کو نفرت تک پہنچانا
الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۶
شکایت کو نفرت تک پہنچانا
ایک روایت حدیث کی کتابوں صحیح مسلم، ابوداؤد، الترمذی، ابن ماجہ، اور مسند احمد میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: عن أبي أيوب الأنصاري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا يحلّ لرجل أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال، يلتقيان فيعرض هذا ويُعرض هذا، وخير هما الذى يبدأ بالسلام (کتاب الأدب، باب الہجرة) یعنی ابو ایوب انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی انسان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رہے۔ دونوں ملیں اور پھر وہ ایک دوسرے سے منہ پھیر لیں۔ دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔
انسانی تعلقات میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے شخص سے ناخوش گوار تجربہ پیش آتا ہے۔ دونوں کے درمیان ناگواری بڑھتی ہے، یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے ترک تعلق کر لیتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے ملنا اور سلام کرنا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔
یہ طریقہ اسلامی شریعت میں جائز نہیں۔ ایسا کرنے والے لوگ سخت گنہ گار ہیں، وہ خدا کے یہاں اس کے لیے پکڑے جائیں گے۔
اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ اگر دونوں کے درمیان تلخی کا سبب غلط فہمی ہے تو غلط فہمی کو دور کر کے تعلق کو درست کر لیا جائے۔ اور اگر ایک آدمی دوسرے کے بارے میں یہ سمجھے کہ وہ بددیانت ہے تو ایسی حالت میں اُس کے لیے صرف یہ جائز ہے کہ وہ اُس سے مزید کوئی عملی معاملہ نہ کرے ۔ لیکن جہاں تک ظاہری تعلق یا سلام و کلام کی بات ہے، وہ بدستور جاری رہنا چاہیے۔ اس طرح کے معاملات میں آدمی کو چاہیے کہ وہ سماجی تعلق کو بدستور برقرار رکھے۔ اس کے آگے کا جو معاملہ ہے، وہ اُس کو خدا کے حوالے کر دے۔ اس طرح کے معاملے میں کسی سے سلام و کلام بند کرنا شکایت کو نفرت تک پہنچانا ہے، اور شکایت کو نفرت تک پہنچانا کسی کے لیے جائز نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues