خدا کا فلسفیانہ تصور
الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۹
خدا کا فلسفیانہ تصور
آرین مذاہب میں وحدتِ وجود (monism) کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس کے مطابق، خدا کا اپنا کوئی فارم نہیں ہے۔ وہ ایک نرا کا ر خدا (formless God) ہے ۔ اس تصور کے مطابق، خدا کی اپنی کوئی الگ ہستی نہیں ہے۔ دنیا میں جو چیزیں دکھائی دیتی ہیں، وہ سب کی سب اسی بے وجود خدا کا وجودی اظہار ہیں۔ یہ تصور دراصل ایک فلسفیانہ تصور ہے۔ فلاسفہ عام طور پر اسی معنی میں خدا کو مانتے رہے ہیں۔ وہ خدا کو اسپرٹ (spirit) یا آئیڈیا (idea) جیسے الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔ یہی فلسفیانہ تصور آرین مذاہب میں ایک عقیدے کے طور پر شامل ہو گیا۔
خدا کا یہ غیر وجودی تصور محض ایک بے بنیاد قیاس (speculation) ہے۔ حقیقی معنوں میں اس کی کوئی استدلالی بنیاد موجود نہیں۔ پہلی بات یہ کہ تخلیق کی صورت میں ہم جس کائنات کا تجربہ کرتے ہیں، وہ پورے معنوں میں ایک فارم (form) ہے۔
یہ کہنا ایک غیر منطقی بات ہے کہ ایک خدا جو محض ایک اسپرٹ یا آئیڈیا تھا، جس کی اپنی کوئی ہستی نہ تھی، اس نے اتنے بے شمار قسم کے فارم پیدا کر دیے۔ خدا وہی ہے جس کے اندر تخلیق کی صفت پائی جاتی ہو، اور اسپرٹ یا آئیڈیا میں تخلیق کی صفت سرے سے موجود نہیں۔ اس لیے یہ نظریہ بداہتہ ہی قابلِ رد ہے: Prima facie it stands rejected. سائنس نے جو دنیا دریافت کی ہے، اس کی تمام چیزیں ایٹم سے مرکب ہیں۔ اس کو لے کر کہا جاتا ہے کہ سائنس کے مطالعے سے کائنات میں وحدت (oneness) کا ثبوت ملتا ہے، یعنی تمام مادی چیزوں میں استثناء کے باوجود یکسانیت (unifortmity amids exception) مگر یہ استدلال درست نہیں۔ کائنات میں مادی اجزا کے اعتبار سے ضرور وحدت ہے، لیکن ان مادی اجزا کی ترکیب سے جو چیز بنی، اس کے اندر غیر معمولی ڈیزائن (design) موجود ہے، اور ڈیزائن صرف ایک ذہن کی تخلیق ہوتی ہے، نہ کہ کسی بے فارم اسپرٹ کی تخلیق۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues