ایمانی انفجار
الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۱۰
ایمانی انفجار
ایک مومن وہ ہے جو رُٹین کی دین داری سے بنتا ہے۔ یہ وہ مومن ہے جس نے کلمہ پڑھا ہو، جو مقرر عبادتیں کرے، جو اخلاق اور معاملات میں شریعت کا پابند ہو، جو مومنانہ وضع قطع اختیار کرے ۔ اس قسم کی دین داری رُٹین کی دین داری ہے۔ یہ دین داری بھی بلاشبہ مطلوب ہے، لیکن اس قسم کی دین داری سے وہ مومن نہیں بنتا جس کو اعلیٰ مومن کہا جاتا ہے۔ اعلیٰ مومن کیسے بنتا ہے، اس کو اموی خلیفہ عمر بن عبد العزیز (وفات: 101 ھ) کی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ عمر بن عبد العزیز 93 ہجری میں مدینہ کے گورنر تھے۔ اُس وقت وہاں ایک تابعی رہتے تھے جن کا نام حبیب بن عبد اللہ بن الزبیر تھا۔ دمشق کے اموی حکمراں الولید بن عبد الملک کو اُن سے شکایت ہوگئی۔ الولید نے عمر بن عبد العزیز کو یہ حکم بھیجا کہ حبیب کو سو کوڑے مارو اور سردی کے موسم میں اُن کے سر پر ٹھنڈا پانی گراؤ۔ عمر بن عبد العزیز نے ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد حبیب کی وفات ہوگئی۔ اس واقعے نے عمر بن عبد العزیز کو اتنا زیادہ تڑپایا کہ ان کی زندگی میں انقلاب آگیا۔ اُن کا حال یہ ہو گیا کہ اگر اُن کو ان کے کسی کارِ خیر پر آخرت کے انعام کی بشارت دی جاتی تو وہ کہہ اٹھتے کہ ایسا کیوں کر ہو سکتا ہے، جب کہ حبیب میرے راستے میں ہیں (کیف و خبیب لی بالطریق) یہ انقلابی واقعہ کیسے پیش آیا، اس کو برین اسٹارمنگ (brainstorming) کے نظریے سے سمجھا جاسکتا ہے۔ آدمی کو جب کوئی سخت جھٹکا لگتا ہے تو اس کے دماغ میں ایک بھونچال آ جاتا ہے۔ اس کے دماغ کے تمام امکانات جاگ اٹھتے ہیں۔ پہلے اگر وہ انسان تھا تو اب وہ سُپر انسان بن جاتا ہے۔ اُس کے اندر انتہائی شدید قسم کا محاسبہ (introspection) جاگ اٹھتا ہے۔ اس کا خوفِ خدا اپنی آخری حد تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ ذہنی بھونچال اس کے ایمان کو بڑھاتا ہے۔ اس کے بعد اس کے اندر وہ بے قراری پیدا ہوتی ہے جو اس کو ایمانی ترقی کے اعلیٰ درجے تک پہنچا دیتی ہے۔ وہ خدا سے قربت کا اعلیٰ تجربہ کرتا ہے۔ وہ تقویٰ کے بلند ترین مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ رُٹین کی دین داری سے کسی آدمی کے اندر ایمانی انفجار پیدا نہیں ہوتا، اس لیے رُٹین کی دین داری سے کسی کو اعلیٰ ایمان کا تجربہ بھی نہیں ہوتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues