معرفت کے درجات
الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۱۱
معرفت کے درجات
قدیم زمانے میں انسان صرف برہنہ آنکھ سے دیکھ سکتا تھا۔ اُس وقت آسمان کے بارے میں انسان کا تصور بہت محدود تھا۔ برہنہ آنکھ سے صرف یہ نظر آتا تھا کہ آسمان میں تقریباً پانچ ہزار چھوٹے چھوٹے ستਾਰੇ موجود ہیں۔ اس کے بعد اٹلی کے سائنس داں گلیلیو (وفات: 1642 ) نے 1609 میں پہلی بار دوربین کے ذریعے آسمان کا مشاہدہ کیا تو معلوم ہوا کہ آسمان کے ستارے اپنے سائز اور تعداد کے اعتبار سے اُس سے بہت زیادہ ہیں جتنا کہ وہ خالی آنکھ سے دکھائی دیتے تھے۔ گلیلیو کی دوربین ابتدائی دور کی بہت چھوٹی دوربین تھی۔ اس کے بعد اس فن میں کافی ترقی ہوئی۔ کیلی فورنیا (امریکا) میں پیلومر پہاڑی (Mount Palomar) کے اوپر 1949 میں ایک بڑی دوربین نصب کی گئی جس کا ڈائی میٹر (diameter) 200 انچ تھا۔ اس دوربین کے ذریعے ممکن ہو گیا کہ بہت زیادہ دور تک آسمانی اجرام کا مشاہدہ کیا جا سکے۔ اس کے بعد 1990 میں امریکا نے ہبل ٹیلی اسکوپ (Hubble Telescope) تیار کیا۔ ہبل ٹیلی اسکوپ زمینی دوربین نہیں تھی، وہ ایک سیاراتی دوربین تھی۔ وہ زمین سے تقریباً 400 میل اوپر جا کر مسلسل خلا میں گھوم رہی ہے۔ اس میں مخصوص قسم کی دوربین اور کیمرہ لگا ہوا ہے۔ یہ نظام خلا سے حاصل شدہ معلومات اور تصاویر زمینی اسٹیشن پر مسلسل بھیجتا رہتا ہے۔ ہبل ٹیلی اسکوپ نے خلا کے بارے میں انسان کے مشاہدے کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ یہ مادی مشاہدے کی بات ہے۔ جس طرح مادی معرفت کے بارے میں انسانی مشاہدے کے مختلف درجات ہیں، اِسی طرح خدا کے بارے میں بھی انسانی معرفت کے مختلف درجات ہیں۔ کسی انسان کو جس درجے کی خدائی معرفت ہوگی، اُسی درجے کا ایمان اس کو حاصل ہوگا۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی معرفت کے درجات کو بڑھائے، وہ مسلسل اس کی کوشش کرتا رہے۔ جس طرح خدا کی تجلیات کی کوئی حد نہیں، اِسی طرح معرفت خداوندی کی بھی کوئی حد نہیں، کسی آدمی کو جس درجے کی معرفت حاصل ہوگی، اُسی اعتبار سے آخرت کی جنت میں اس کا درجہ مقرر کیا جائے گا، نہ اُس سے کم اور نہ اُس سے زیادہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues