دعوت، دعوت، دعوت
الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۱۵
دعوت، دعوت، دعوت
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 570ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ 610ء میں آپ کو پیغمبری ملی۔ اس کے بعد 23 سال تک آپ دنیا میں رہے، 13 سال تک مکہ میں اور 10 سال تک مدینہ میں۔ سیرت نگار ان دونوں زمانوں کو مکی دور اور مدنی دور کا نام دیتے ہیں۔ یہ تقسیم مقامِ کار کے اعتبار سے ہے، نہ کہ نوعیتِ کار کے اعتبار سے:
This division is in term of place of work, and not in term of nature of work. پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل حیثیت یہ تھی کہ آپ داعی الی اللہ تھے (الأحزاب: 46)۔ دعوتی مشن ہی آپ کی پوری زندگی کا مشن تھا۔ اسی دعوتی مشن کا نمونہ آپ نے اپنی امت کو دیا۔ پیغمبر اسلام کی پیروی میں آپ کی امت کو بھی اسی دعوتی نمونے پر قائم رہنا ہے۔ اس کے سوا جو چیزیں ہیں، وہ سب کی سب ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جب 610ء میں نبوت ملی تو اُس وقت بھی آپ کا مشن دعوت تھا جس کو قرآن میں انذار اور تبشیر کہا گیا ہے۔ آپ مکہ کے اجتماعات میں جاتے اور لوگوں سے کہتے: أيها الناس، قولوا لا إله إلا الله، تفلحوا (اے لوگو، لا الہ الا اللہ کہو، تم فلاح پاؤ گے)۔ 13 سال کے بعد جب مکہ کے حالات سخت ہوگئے تو آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ یہ ہجرت بھی اسی لیے تھی کہ دعوت کے نئے مواقع کو استعمال کیا جاسکے۔ آپ نے ہجرت سے پہلے اپنے دو نمائندے مدینہ بھیجے، جن کو مُقرِی کہا جاتا تھا، یعنی قرآن کو سنا کر دعوت کا پیغام دینے والا۔ اس کے بعد جب آپ خود مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو وہاں بھی آپ نے اپنے پہلے خطاب میں لوگوں سے کہا: اتقوا النار ولو بشق تمرة (اے لوگو، اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ کیوں نہ ہو)۔ قریشِ مکہ اُمّت آپ کے دشمن ہو چکے تھے۔ ہجرت کے بعد انھوں نے یک طرفہ طور پر
‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues