Al-Risala · June 2009 · page 16

دعوت، دعوت، دعوت

الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۱۶

جارحانہ اقدام کر کے آپ کو الجھانے کی کوشش کی، لیکن آپ مختلف تدبیروں کے ذریعے ہمیشہ جنگ کو اوائڈ کرتے رہے۔ صرف تین بار مجبُرانہ طور پر اصحابِ رسول اور قریشِ مکہ کے درمیان ٹکراؤ پیش آیا، بدر میں اور احد میں اور حُنَین میں۔ لیکن آپ کی حکمتِ اعراض کی بنا پر تینوں بار صرف آدھے آدھے دن کی لڑائی ہوئی۔ ایسی حالت میں ان جنگوں کو جنگ کے بجائے جھڑپیں (skirmishes) کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔ جنگ سے اعراض کی یہ پالیسی آپ نے اسی لیے اختیار فرمائی، تا کہ دعوت کا عمل کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔ مخالفین کی جارحیت کے نتیجے میں آپ کی زندگی میں کچھ جنگی واقعات پیش آئے، لیکن اُس وقت بھی آپ کا کَنْسَرن (concern) تمام تر دعوت الی اللہ ہوتا تھا۔ مثلاً ایک جنگی مہم پر روانہ کرتے ہوئے آپ نے علی بن ابی طالب کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر اللہ کسی ایک انسان کو تمھارے ذریعے سے ہدایت دے دے تو یہ تمھارے لیے اُن تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے (لأن يهدى الله على يديك رجلاً ، خير لك مما طلعت عليه الشمس۔

المستدرك للحاكم، 3/690)۔

ان جنگی حالات میں بھی محدود طور پر دعوت کا کام جاری تھا، آپ نے چاہا کہ دعوت کا عمل زیادہ کھلے طور پر اور زیادہ وسیع طور پر جاری رہے۔ اس مقصد کے لیے آپ نے یہ منصوبہ بنایا کہ قریش سے بات چیت کر کے اُن سے امن کا معاہدہ کر لیا جائے ۔ چناں چہ حدیبیہ کے مقام پر دونوں گروہوں کے درمیان گفتگو شروع ہوئی ۔ یہ گفتگو تقریباً دو ہفتے تک جاری رہی۔ قریش کے نمائندے کا کہنا تھا کہ ہم معاہدۂ امن کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن اس کے لیے آپ کو یک طرفہ طور پر ہماری شرطوں کو ماننا ہوگا۔ بظاہر یہ نابرابری کا معاہدہ تھا۔ لیکن آپ نے فریقِ ثانی کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لیا، اس لیے کہ جنگی حالات ختم ہو جائیں اور دعوت کا عمل کھلے طور پر جاری ہو جائے۔ حدیبیہ کا امن معاہدہ بظاہر پسپائی کا معاہدہ تھا۔ لیکن جب یہ معاہدہ مکمل ہوا تو اس کے بعد قرآن کی سورہ نمبر 48 اتری جس میں یہ اعلان کیا گیا کہ: إنا فتحنا لك فتحاً مبينا (الفتح: 1) یعنی ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی۔ بظاہر پسپائی کے ایک واقعے کو قرآن میں فتح کیوں قرار دیا گیا۔ یہ فتح کسی سیاسی

‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues

Printed page