Al-Risala · June 2009 · page 17

دعوت، دعوت، دعوت

الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۱۷

معنی میں تھی، وہ صرف اس معنی میں تھی کہ اس معاہدے نے دعوت کے تمام بند دروازوں کو کھول دیا۔ جیسا کہ تاریخ بتاتی ہے، اس کے بعد جو دعوتی عمل کیا گیا، اُس کے نتیجے میں لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہوگئے۔ معاہدۂ حدیبیہ کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف چودہ سو افراد موجود تھے، لیکن دو سال کے اندر جب آپ نے دوبارہ مکہ کی طرف مارچ کیا تو آپ کے ساتھیوں کی تعداد دس ہزار ہوچکی تھی۔ چناں چہ کسی ٹکراؤ کے بغیر خالص پر امن انداز میں مکہ میں اسلام کا غلبہ قائم ہوگیا۔ غلبہ کے باوجود آپ نے قدیم مخالفین کے ساتھ کوئی منفی برتاؤ نہیں کیا۔ آپ کے اس پر امن رویئے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مکہ کے تمام لوگ پر امن طور پر اسلام میں داخل ہوگئے۔ مکہ والوں کی طرف سے جب مزاحمت ختم ہوگئی تو آپ نے اس کے بعد کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی، آپ نے قدیم مخالفین کو ’’سبق سکھانے کے لیے‘‘ کوئی منصوبہ نہیں بنایا۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ عرب کے اطراف میں آباد قبائل کے درمیان خاموشی کے ساتھ توحید کا پیغام پھیلانا شروع کردیا۔ یہ منصوبہ بندی نہایت کامیاب ہوئی۔ قبائل کی طرف سے برابر اُن کے وفود مدینہ آنے لگے۔ آپ نے ان وفود کے ساتھ نہایت نرمی کا معاملہ فرمایا۔ آپ نے نہایت آسان شرائط کے ساتھ ان سے امن کا معاہدہ کر لیا۔ اس طرح آپ نے تمام عرب قبائل کو امن کے معاہدات میں شامل کر لیا۔ اس معاہداتی طریق کار کے درمیان پر امن دعوت کا عمل بھی برابر جاری رہا، یہاں تک کہ سارا عرب اسلام کے دائرے میں آگیا۔

اپنی عمر کے آخری حصے میں پیغمبر اسلام ﷺ نے حج کا سفر کیا اور حج ادا فرمایا جس کو حجتہ الوداع کہا جاتا ہے۔ اُس وقت آپ کے اصحاب ایک لاکھ سے زیادہ کی تعداد میں عرفات کے میدان میں موجود تھے۔ آپ نے اُنھیں اپنا آخری پیغام دیا۔ اس پیغام میں آپ نے نہ جنگ کی کوئی بات کی اور نہ حکومت کی۔ آپ نے اُنھیں پر امن دعوت کا مشن عطا فرمایا۔ آپ نے کہا کہ اللہ نے مجھے سارے انسانوں کے لیے بھیجا ہے، اس لیے تم میرے پیغام کو سارے انسانوں تک پہنچادو (إن الله بعثني كافةً للناس، فأدّوا عنى)۔ اس کے بعد آپ کے تمام اصحاب دعوت الی اللہ کی پر امن اشاعت کے کام میں لگ گئے۔ انھوں نے اُس وقت کی آباد دنیا کے بڑے حصے میں اسلام کے پیغام کو پھیلا دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues

Printed page