Al-Risala · June 2009 · page 20

نصف ثانی کی سیاست

الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۲۰

نصف ثانی کی سیاست

کچھ مسلم نو جوان مجھ سے ملنے کے لیے آئے۔ وہ نہایت جوش میں تھے اور ’’غیر قوم‘‘ کے ظلم کی شکایت بیان کر رہے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہم کو اس ظلم کے خلاف کچھ کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ اس معاملے میں آپ کو سب سے پہلے یہ کرنا ہے کہ آپ اُس کو ظلم سمجھنا چھوڑ دیں۔ آپ دوسروں کے خلاف احتجاج کرنے کے بجائے خود اپنے آپ پر نظرثانی کریں۔

میں نے کہا کہ آپ سب نوجوان لوگ ہیں۔ اگر میں آپ کو مارنے لگوں تو آپ کیا کریں گے۔ آپ میرے او پر جوابی حملہ کریں گے اور مار کر چلے جائیں گے۔ اب اگر میں لوگوں سے یہ کہوں کہ کچھ مسلم نوجوان میرے پاس آئے تھے، وہ مجھ کو مار کر بھاگ گئے، تو یہ جھوٹ ہوگا۔ کیوں کہ اصل حقیقت یہ ہوگی کہ میں نے آپ کو مارا، اس کے بعد آپ نے جوابی طور پر مجھ کو مارا۔ ایسی حالت میں اصلی قصور وار میں ہوں۔ اگر میں اپنی بات نہ کہوں اور آپ نے جو کچھ کیا، میں صرف اُس کو دہرائوں تو یہ اصل واقعے کے نصف حصے کو دہرانا ہوگا۔ یہ کہانی کے نصف اول (first half) کو چھوڑ کر اس کے نصف ثانی (second half) کا چرچا کرنا ہوگا، اور اس طرح نصف ثانی کا چرچا کرنا، عقل کے بھی خلاف ہے، اور اسلام کے بھی خلاف۔

موجودہ زمانے کے تمام لکھنے اور بولنے والے لوگ اسی کے مطابق لکھتے اور بولते ہیں۔ وہ نصف ثانی کی سیاست چلا رہے ہیں۔ اس قسم کی سیاست اور صحافت، یا اس قسم کا جلسہ اور جلوس بلا شبہ لغو بھی ہے اور غیر مفید بھی۔ عقل اور شریعت کے اعتبار سے وہ ایک مجرمانہ کام کی حیثیت رکھتا ہے، اور نتیجے کے اعتبار سے وہ سراسر بے فائدہ کام ہے۔ اس قسم کی نصف ثانی کی سیاست کا کوئی مثبت نتیجہ اس دنیا میں نکلنے والا نہیں۔ مزید یہ کہ آخرت کے اعتبار سے وہ ایک گناہ کا کام ہے۔ قرآن کی اصطلاح میں وہ تطفیف (المطففین: 1) ہے۔ اور قرآن کے مطابق، جولوگ تطفیف کا عمل کریں ، اُن کے لیے قانون الہی میں صرف ویل مقدر ہے، نہ کہ کوئی خیر۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues

Printed page