شور، شور، شور
الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۲۱
شور، شور، شور
شور (noise) ایک مسئلہ ہے۔ شور ایک کثافت ہے۔ موجودہ زمانے میں جن چیزوں کو کثافت سمجھا جاتا ہے، اُن میں سے ایک شور کی کثافت (noise pollution) بھی ہے۔ شور اُسی طرح تباہی پیدا کرتا ہے جس طرح کوئی بم دھماکہ (bomb explosion) تباہی پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ شور کے دھماکے اور بم کے دھماکے میں صرف ظاہری فرق ہے، حقیقت کے اعتبار سے ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
موجودہ زمانے میں شور کا مسئلہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے—لاؤڈ اسپیکر کا شور، جلسوں اور نعروں کا شور، مشینوں کا شور، گاڑیوں کا شور، ہارن کا شور، ریڈیو اور موبائل کا شور، وغیرہ۔ قدیم زمانے میں گدھے کو شور کرنے والا حیوان سمجھا جاتا تھا۔ موجودہ زمانے میں انسان اُس سے ہزار گنا زیادہ شور کرنے والا حیوان بن گیا ہے۔
شور کوئی سادہ چیز نہیں۔ شور کسی انسان کو فرشتوں کی صحبت سے محروم کر دیتا ہے۔ اور جو انسان فرشتوں کی صحبت سے محروم ہو جائے، وہ نہایت آسانی کے ساتھ شیطانوں کا ہمنشیں بن جاتا ہے۔ فرشتے وہ نہ دکھائی دینے والی طاقت ہیں جو کسی عورت یا مرد کو برائی سے بچاتے ہیں۔ فرشتوں کی صحبت کسی انسان کو جنتی شخصیت بناتی ہے۔ جو انسان فرشتوں کی صحبت سے محروم ہو جائے، وہ لازمی طور پر جہنمی شخصیت بن کر رہ جائے گا۔ ایسے لوگوں کو جنت کی خوشبو کبھی نصیب نہ ہوگی۔ جنت وہ معیاری دنیا ہے جہاں شور نہ ہوگا۔ شور اور جنت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ ایسی حالت میں جو لوگ شور کلچر (noise culture) کو اختیار کریں، وہ گویا کہ اپنے آپ کو جنت کے لیے غیر مستحق بنا رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کا صرف ایک انجام ہے، وہ یہ کہ ایسے لوگوں کو جہنم کے پُرسور مسکن شیاطین (pandemonium) میں ڈال دیا جائے، جہاں وہ ابدی طور پر شور و غوغا کی عذاب گاہ میں پڑے رہیں اور کبھی اُس سے نکل نہ سکیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues