موت کی طرف سفر
الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۲۶
موت کی طرف سفر
ماسٹر عبد الوحید سہارن پوری دہلی کے علاقہ یمنا وہار میں 45 سال سے رہتے تھے۔ وہ مدرسہ تعلیم الاسلام (چوڑی والان، دہلی) میں استاد تھے۔ 18 فروری 2009 کی صبح کو وہ حسب معمول اپنے گھر سے مدرسے کے لیے روانہ ہوئے۔ اُس وقت ان کی صحت بظاہر بالکل ٹھیک تھی۔ ابھی وہ مدرسے میں تھے کہ دوپہر کے وقت اُنھیں سانس کی تکلیف محسوس ہوئی۔ تکلیف بڑھی تو مدرسے کے طلباء اُن کو رکشے پر بٹھا کر اسپتال کے لیے روانہ ہوئے۔ راستے میں اُن پر بے ہوشی جیسی حالت طاری ہو گئی۔ اسپتال پہنچے تو ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کا انتقال ہو چکا ہے۔ بوقت وفات ان کی عمر تقریباً 75 سال تھی۔ یہ صرف ایک شخص کا واقعہ نہیں، یہی ہر عورت اور ہر مرد کا واقعہ ہے۔ ہر شخص کسی نہ کسی سفر میں ہے۔ اس کے ذہن میں ایک منزل ہوتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی مطلوب منزل کی طرف جا رہا ہوں ۔ مگر ہر ایک کے لیے مقدر ہے کہ وہ اس دنیا میں صرف 75 سال رہے، اور اس کے بعد اُس کو اُس دوسری دنیا میں پہنچا دیا جائے جہاں سے دوبارہ وہ لوٹنے والا نہیں۔ ہر سفر اپنی حقیقت کے اعتبار سے موت کا سفر ہے، خواہ بظاہر وہ دیکھنے والوں کو کوئی اور سفر دکھائی دیتا ہو۔ یہی اس دنیا میں آنے والے ہر انسان کی کہانی ہے۔ ہر زندہ انسان پر وہ وقت آنے والا ہے جب کہ اس کی سانس بند ہو جائے، جب اُس کے چلتے ہوئے قدم رک جائیں، جب وہ سوچنے کے قابل نہ رہے، جب کہ اس کی آنکھ اور اس کے کان اپنا کام کرنا بند کردیں، جب کہ وہ اپنا تمام اثاثہ چھوڑ کر بالکل تنہا اگلے دور حیات میں داخل ہو جائے۔
یہی وہ سنگین حقیقت ہے جس کو ہر عورت اور ہر مرد کو سب سے زیادہ جاننا چاہیے۔ یہی وہ انجام ہے جس کی ہر ایک کو سب سے زیادہ تیاری کرنا چاہیے۔ یہی وہ معاملہ ہے جس کے بارے میں ہر ایک کو سب سے زیادہ سنجیدہ ہونا چاہیے ۔ جو لوگ اس سوچ کے ساتھ زندگی گزاریں، وہی وہ لوگ ہیں جو آخر کار کامیاب ہوں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues