سیاسی تعبیر، راہبان تعبیر
الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۲۵
سیاسی تعبیر، راہبان تعبیر
ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ آپ اسلام کی سیاسی تعبیر (political interpretation) کے خلاف ہیں اور اپنے نتیجے کے اعتبار سے اس کو ایک فتنہ بتاتے ہیں۔ لیکن آپ نے خود اسلام کی جو تشریح کی ہے، وہ بھی ایک دوسرا فتنہ ہے۔ کیوں کہ آپ کی تعبیر’’راہبانہ تعبیر‘‘ ہے، اور راہبان تعبیر بلاشبہ اسلام کی درست تعبیر نہیں۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ غلط تقابل (wrong comparison) کس طرح ، صحیح رائے قائم کرنے میں مانع بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر فکری گم راهیاں غلط تقابل کے ذریعے وجود میں آتی ہیں۔ صحیح تفکیر (right thinking) نام ہے، صحیح تقابل (right comparison) کا، اور غلط تفکیر نام ہے، غلط تقابل کا۔
میں نہ راہب ہوں اور نہ راہبانہ بات کرتا ہوں۔ میرا جو ماننا ہے، وہ صرف یہ ہے کہ قرآن اور حدیث میں جو احکام آئے ہیں، وہ بجائے خود اپنی اپنی جگہ پر مطلوب احکام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن ان کی مطلوبیت کی دو صورتیں ہیں، اور اس بنا پر ان احکام کی دو قسمیں بن جاتی ہیں۔ ان احکام کا ایک حصہ وہ ہے جو اسلام کا حقیقی حصہ (real part) ہے۔ اُس کا دوسرا حصہ وہ ہے جو اسلام کے اضافی حصہ (relative part) کی حیثیت رکھتا ہے۔ پہلا حصہ مطلقا اور ہر حال میں مطلوب ہے، اور دوسرا حصہ حالات کی نسبت سے مطلوب ہوتا ہے۔ فرد (individual) سے متعلق احکام کا تعلق پہلے حصے سے ہے، اور اجتماع (society) سے متعلق احکام کا تعلق دوسرے حصے سے۔
اس فرق کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں، یہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔ فرد کی سطح پر احکام کا نفاذ آپ اپنے ارادے سے کر سکتے ہیں، لیکن اجتماع کی سطح پر احکام کا نفاذ اجتماع کی موافقت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ ایسی حالت میں جو لوگ اسلام کو ایک مکمل نظام کی صورت میں دیکھیں، اُن کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (option) رہ جاتا ہے— یا تو وہ مسلسل لڑتے رہیں، یا اپنے اعلان کردہ نشانے کے خلاف، موجودہ نظام سے سمجھوتہ کرکے منافقت کی زندگی گزاریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues