Al-Risala · June 2009 · page 31

حیاتیاتی ارتقاء کا نظریہ

الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۳۱

حیاتیاتی ارتقاء کا نظریہ

حیاتیاتی ارتقاء(evolution) کا نظریہ برٹش عالم طبیعیات (naturalist) چارلس ڈارون (Charles Darwin) کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ ڈارون 1809 میں پیدا ہوا، اور 1882 میں اس کی وفات ہوئی۔ 2009 میں اس کی پیدائش پر دو سو سال پورے ہو گئے۔ اس نسبت سے 2009 میں ڈارون کا اور اس کے نظریے کا کافی چرچا کیا گیا۔ ڈارون سے پہلے فرانسیسی عالم طبیعیات لامارک (Jean Baptiste Lamarck) وغیرہ نے بھی ابتدائی صورت میں ارتقاء کا نظریہ پیش کیا تھا۔ لیکن ڈارون نے اس نظریے کو زیادہ منظم انداز میں پیش کیا۔ نظریہ ارتقاء کیا ہے۔ اس سے مراد یہ نظریہ ہے کہ نباتات اور حیوانات کی تمام انواع ایک ابتدائی صورت سے ترقی کرکے اپنی موجودہ حالت تک پہنچیں ہیں ۔ یہ ارتقاء نسل در نسل تبدیلیوں کے وراثتی انتقال کے ذریعے ہوا:

Evolution: Theory that all species of animals and plants developed from earlier forms by hereditary transmission of slight variations in genetic composition to successive generations. چارلس ڈارون نے اپنی کتاب اصل الانواع (The Origin of Species) میں لکھا تھا کہ خدا (God) نے پہلی بار زندگی کی ابتدائی صورت ایک خلیہ والے (single-cellular) امیبا کی شکل میں پیدا کی۔ اس کے بعد اپنے آپ تبدیلیوں (mutations) اور فطری انتخاب (natural selection) اور بقاء اصلح (survival of the fittest) کے ذریعے مختلف انواع حیات بنتی چلی گئیں، یہاں تک کہ آخر میں انسان جیسی ترقی یافتہ مخلوق وجود میں آئی۔ یہ سب کچھ ارتقائی عمل (evolutionary process) کے ذریعے خود بخود پیش آیا۔ ڈارون نے اپنی کتاب میں خالقِ اول کے طور پر خدا کا نام لیا تھا، لیکن بعد کو نظریہ ارتقاء کے حامیوں کے درمیان، خدا کا نام مکمل طور پر حذف ہو گیا۔ ارتقائی سفر کا یہ پورا عمل موجودہ زمین پر پیش آیا تھا۔ لیکن بعد کی تحقیقات نے بتایا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues

Printed page