Even a minor change in any species would
الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۳۲
موجودہ قسم کے ارتقائی عمل کا ہماری زمین پر پیش آنا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ مثال کے طور پر زمین کی عمر اس سے بہت زیادہ کم ہے جو مذکورہ قسم کے ارتقائی عمل کے لیے درکار ہے۔ نظریہ ارتقاء یہ فرض کرتا ہے کہ ایک نوع حیات سے دوسری نوع حیات کا وجود میں آنا، حیاتیاتی تبدیلیوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ مثلاً بکری کے اندر نسل در نسل بے شمار تبدیلیاں وجود میں آئیں، یہاں تک کہ ان تبدیلیوں کے جمع ہونے سے بکری کی آخری نسل میں زرافہ جیسا حیوان پیدا ہو گیا۔ یہ لمبا سفر ان گنت تبدیلیوں کے ذریعے ہوا۔ ایک ریاضی داں پروفیسر پاچو (Patau) نے حساب لگا کر بتایا ہے کہ کسی نوع حیات میں ایک بہت معمولی قسم کی مفروضہ تبدیلی کو وجود میں لانے کے لیے ایک بلین نسلیں درکار ہوں گی:
Even a minor change in any species would
لیکن حیاتیاتی تبدیلیوں (mutations) کا یہ عمل اگر بالفرض وقوع میں آسکے، تب بھی اس طویل حیاتیاتی عمل کا موجودہ زمین (planet earth) پر وقوع میں آنا ممکن نہیں۔ کیوں کہ زمین کی عمر اس طرح کے طویل عمل کے لیے سراسر نا کافی ہے۔ چارلس ڈارون کے زمانے میں زمین کی عمر معلوم نہ تھی۔ مگر اب ٹکنالوجی کی ترقی کے بعد زمین کی عمر قطعی طور پر معلوم ہو چکی ہے۔ ارضیاتی سائنس دانوں کا خیال ہے کہ زمین ابتدائی طور پر دو بلین سال پہلے وجود میں آئی۔ اُس وقت وہ نہایت گرم تھی۔ اس کے بعد زمین ٹھنڈی ہوئی اور پانی وجود میں آیا۔ ارضیاتی تحقیق (geological studies) کے مطابق، ایک بلین 23 کروڑ سال پہلے زمین ٹھنڈی ہو کر اس قابل ہوئی کہ زندگی جیسی چیز اُس کے اوپر وجود میں آسکے۔ اب اگر ڈارون ازم کے مفروضہ کے مطابق، انسان اور دوسری انواع حیات ارتقائی عمل کے ذریعے وجود میں آئی ہیں تو زمین کی مذکورہ عمر ایسے عمل کے لیے انتہائی حد تک نا کافی ہے۔ ایک بلین 23 کروڑ سال کے اندر اس قسم کے ارتقائی عمل کی تکمیل سرے سے ممکن ہی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues