Al-Risala · June 2009 · page 36

نظریہ ارتقاء اور مذہب

الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۳۶

نہیں۔ البتہ کچھ غیر متعلق مثالیں پیش کی جاتی ہیں، مگر یہ مثالیں مغالطے سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ ایک مشہور مثال پتنگا (moth) کی ہے۔ مشاہدے سے معلوم ہوا کہ جو پتنگے سبز درختوں اور پودوں کے درمیان رہتے ہیں، وہ ہرے (green) ہو جاتے ہیں، اور جو پتنگے پتھریلے علاقوں میں رہتے ہیں، اُن کا رنگ پتھر یارنگ بن جاتا ہے۔

اس مثال سے ارتقاء کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ زیادہ سے زیادہ جو چیز اس سے ثابت ہوتی ہے، وہ یہ کہ خارجی ماحول ظاہری رنگ پر اثر انداز ہوتا ہے، جیسا کہ سرد ممالک میں رہنے والے لوگ اکثر سفید فام ہوتے ہیں اور گرم ممالک میں رہنے والے لوگ اکثر سیاہ فام۔ مگر نظریہ ارتقاء کے ضمن میں جو اصل بحث ہے، وہ جسم کے خارجی رنگ (colour) میں تبدیلی کی نہیں ہے، بلکہ نوع (species) میں تبدیلی کی ہے، اور پتنگے کی مثال سے نوع میں تبدیلی کا اصول ثابت نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ حیاتیاتی ارتقاء کا نظریہ 1859 میں بھی ایک غیر سائنسی نظریہ تھا، جب کہ چارلس ڈارون کی کتاب اصل الانواع (The Origin of Species) پہلی بار چھپی اور 2009 میں بھی وہ اتنا ہی غیر سائنسی ہے، جب کہ امریکی جنرل نیچر (Nature) میں کچھ امریکی پروفیسروں کے ”نتائج تحقیق“ شائع ہوئے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ حیاتیاتی ارتقاء کے نظریے کو موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ طبقے میں عمومی قبولیت (general acceptance) حاصل ہو چکا ہے، مگر واقعات بتاتے ہیں کہ اس نظریے کی یہ مقبولیت اس لیے نہیں ہوئی ہے کہ سائنسی طور پر وہ ثابت ہو گیا ہے۔ اس کا سبب یقینی طور پر صرف یہ ہے کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ زندگی کی تشریح خدا کے بغیر کرنا چاہتا ہے۔ جدید طبقے کو یہ نظر آتا ہے کہ نظریہ ارتقاء کی صورت میں اس کو ایک ورک ایبل نظریہ (workable theory) حاصل ہو گیا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی حقیقی علمی بنیاد نظریہ ارتقاء کے حق میں موجود نہیں۔

نظریہ ارتقاء اور مذہب

نظریہ ارتقاء کے ابتدائی زمانے میں مسیحی چرچ اُس کا سخت مخالف بن گیا تھا۔ مگر اب غالباً

‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues

Printed page