Al-Risala · June 2009 · page 35

Even a minor change in any species would

الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۳۵

کہ یہ فرض کر لیا گیا کہ حیاتیاتی ارتقاء بذریعہ انفجار (explosion) پیش آیا ہے۔ محققین نے اس معاملے کو آتش فشانی انشقاق (volcanic eruption) پر قیاس کیا ہے۔ اُن کا ماننا ہے کہ جس طرح ایک آتش فشانی پہاڑ اچانک پھٹتا ہے اور اس کے اندر سے لاوا (lava) کی صورت میں ایک نئی چیز نکل آتی ہے، اُسی طرح انفجار کے ذریعے زندگی کی مختلف صورتیں ایک کے بعد ایک نکلتی چلی گئیں۔ اس ارتقائی انشقاق (evolutionary eruption) کا مطلب یہ ہے کہ واحد الخلیہ نوع میں انشقاق ہوا، اس کے بعد اچانک کثیر الخلیہ نوع وجود میں آگئی۔ مچھلی کے اندر انشقاق ہوا، اس کے بعد اچانک چڑیا وجود میں آگئی۔ بکری کے اندر انشقاق ہوا، اس کے بعد اچانک زرافہ وجود میں آگیا۔ بلی کے اندر انشقاق ہوا، اس کے بعد اچانک شیر وجود میں آگیا۔ بندر کے اندر انشقاق ہوا، اس کے بعد اچانک انسان وجود میں آگیا، وغیرہ۔

انشقاق (eruption) کا یہ نظریہ کسی حقیقی سائنسی دریافت پر مبنی نہیں ہے۔ وہ دوبارہ اُسی طرح غیر متعلق قیاسات (irrelevant suppositions) پر مبنی ہے، جیسا کہ ڈارون نے اِسی طرح کے غیر متعلق قیاسات پر بنارکھتے ہوئے ابتدائی طور پر اپنا نظریہ ارتقاء وضع کیا تھا۔ نظریہ ارتقاء میں بے شمار قسم کی گم شدہ کڑیاں (missing links) موجود تھیں، تاہم ان گم شدہ کڑیوں کو قیاسی طور پر فرض کرتے ہوئے ارتقاء کا نظریہ تسلیم کر لیا گیا۔ یہی معاملہ جدید تحقیق کا بھی ہے۔ اس تحقیق میں بھی بے شمار قسم کی نامعلوم کڑیاں ہیں، لیکن ان نامعلوم کڑیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے محض قیاس کی بنیاد پر یہ جدید نظریہ وضع کر لیا گیا۔

ارتقاء کا نظریہ یہ فرض کرتا ہے کہ انواع حیات میں مسلسل تغییرات ہوئے ہیں۔ یہ تغییرات ماحول کے تعامل سے وجود میں آتے ہیں، یا آۓ ہیں۔ اس ارتقائی اصول کو موافقت (adaptation) کہا جاتا ہے۔ یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ اس موافقت کے نتیجے میں جو تغییرات پیش آتے ہیں، وہ نسل در نسل جمع ہوتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ ایک نوع دوسری نوع میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ موافقت (adaptation) کے اس مفروضہ نظریے کے حق میں کوئی دلیل یا مثال موجود

‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues

Printed page