Al-Risala · January 2009 · page 27

سائنس کا کاروبار

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۲۷

سائنس کا کاروبار

دہلی میں ہمارے محلے میں ایک صاحب تھے۔ لوگ ان کو ملاّ جی کہتے تھے۔ وہ بھینس پالتے تھے اور دودھ کا کاروبار کرتے تھے۔ ان کی دوستی ایک ہندو تاجر سے تھی۔ ان کے یہاں لوہے کا کاروبار تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ ملاّ جی کی ایک بھینس مرگئی۔ وہ اپنے ہندو دوست سے ملے۔ اس سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میری ایک بھینس مرگئی۔ یہ سن کر لوہے کے ہندو تاجر نے کہا کہ ملاّ جی، تمھارا تو سائنس کا کاروبار ہے۔ آیا آیا، نہ آیا، یعنی ایک بھینس صرف اُس وقت تک زندہ ہے جب تک کہ اُس کا سانس چل رہا ہے۔ سانس اگر رک جائے تو بھینس کی زندگی بھی ختم ہو جائے گی۔ مذکورہ تاجر نے یہ بات ملاّ جی کے کاروبار کے بارے میں کہی تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر زندہ انسان کا معاملہ یہی ہے۔ مذکورہ تاجر کو کہنا چاہیے تھا کہ ملاّ جی، ہمارا اور تمھارا معاملہ تو سائنس کا معاملہ ہے۔ آیا آیا، نہ آیا۔ جیسا کہ معلوم ہے، انسان کے جسم میں مختلف قسم کے نظام ہیں جو اس کی زندگی کے لیے ضروری ہیں۔ اسی طرح انسان کے اندر ایک وہ نظام ہے جس کو نظام تنفس (respiratory system) کہا جاتا ہے۔ یہ نظام انسانی زندگی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہ نظام تنفس جب تک کام کر رہا ہے، انسان زندہ ہے۔ یہ نظام اپنا کام نہ کرے تو انسان چند منٹ کے اندر مر جائے گا۔ کسی آدمی پر جب موت آتی ہے تو آخر وقت میں اس کی سانس اکھڑ جاتی ہے۔ اس حالت کو غرغرہ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب کہ انسان کا نظام تنفس معتدل حالت میں اپنا کام کرنا بند کر دیتا ہے اُس وقت انسان کے گلے سے عجیب قسم کی آواز آنے لگتی ہے۔ چند منٹ تک یہ آواز آتی ہے، اس کے بعد انسان پر وہ حالت طاری ہو جاتی ہے جس کو موت کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسرے کی موت خود اپنی موت کی یاد دہانی ہے۔ ہر موت زندہ لوگوں کو بتاتی ہے کہ جس طرح مرنے والا مر گیا، اُسی طرح زندہ رہنے والا بھی مرے گا۔ ہر موت یاد دلاتی ہے کہ اے لوگو، مستقبل کی تیاری کرو، کیوں کہ آخر کار جو چیز تمھارے حصے میں آنے والی ہے، وہ تمھارا مستقبل ہے، نہ کہ تمھارا ماضی اور حال۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues

Printed page