حقیقی ایشو، غیر حقیقی ایشو
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۲۸
حقیقی ایشو، غیر حقیقی ایشو
کسی سماج میں جو لکھنے اور بولنے والا طبقہ ہوتا ہے، وہی سماج کا مزاج بناتا ہے۔ موجودہ زمانے میں صحافت اور میڈیا کا رول اس مزاج سازی میں بہت اہم ہے۔ اس طبقے کو ایک لفظ میں ذہن ساز طبقہ (opinion-maker class) کہا جا سکتا ہے۔ کسی سماج میں، ذہن ساز طبقے کی ذمے داری بہت زیادہ اہم ہوتی ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ موجودہ زمانے میں، ذہن ساز طبقہ عام طور پر ایک خطرناک رول ادا کر رہا ہے، وہ یہ کہ یہ طبقہ حقیقی ایشو اور غیر حقیقی ایشو میں فرق نہیں کرتا۔ وہ ایسا کرتا ہے کہ غیر حقیقی ایشو پر لوگوں کو حساس (sensitive) بنا دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ بار بار، غیر حقیقی ایشو پر بھڑک اٹھتے ہیں، وہ ایسے معاملات میں ایجی ٹیشن (egitation) اور تشدد تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ خود ذہن ساز طبقہ تو اپنے قيادتی منصب کی بنا پر اکثر محفوظ رہتا ہے، لیکن سماج کو اس کا نہایت بھیانک انجام بھگتنا پڑتا ہے۔
حقیقی ایشو اور غیر حقیقی ایشو کی پہچان کیا ہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ حقیقی ایشو ہمیشہ سنجیدہ غور و فکر کے ذریعہ متعین ہوتا ہے۔ اور غیر حقیقی ایشو ہمیشہ وقتی جذبات کے تحت وجود میں آتا ہے۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ حقیقی ایشو کی بنیاد پر سرگرمی ہمیشہ مثبت نتیجے تک پہنچاتی ہے۔ اس کے برعکس، غیر حقیقی ایشو پر جو تحریک چلائی جائے، وہ ہمیشہ مسائل میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔
ذہن ساز طبقے کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ لوگوں کو حقیقی ایشو کے معاملے میں حساس بنائے، غیر حقیقی ایشو کے معاملے میں حساس بنانے کو حرام کے درجے میں وہ اپنے لیے قابل پرہیز سمجھے۔ ذہن ساز طبقے کا یہ فرض ہے کہ وہ اس معاملے میں آخری حد تک محتاط رہے۔ زندگی مختلف قسم کے ایشوز (issues) کا جنگل ہے۔ ایسی حالت میں کچھ بولتے ہوئے یا کوئی اقدام کرتے ہوئے یہ جاننا ضروری ہے کہ کون اشو حقیقی ہے، اور کون اشو غیر حقیقی، جو آدمی اس فرق کو نہ جانے، اس پر لازم ہے کہ وہ چپ رہے، نہ کہ نادانی کی بات کر کے مسائل میں اور اضافہ کر دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues