Al-Risala · June 2009 · page 42

پھر سے سوچیئے

الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۴۲

پھر سے سوچیئے

پھر سے سوچیئے یہ زندگی کا ایک اصول ہے۔ زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ حالات بدل جاتے ہیں، اندازے غلط ثابت ہوتے ہیں، کوشش کا مطلوب نتیجہ نہیں نکلتا۔ یہ صورتِ حال ہمیشہ انسانی زندگی میں قائم رہتی ہے۔ اس لیے انسان کو بار بار یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ پھر سے سوچے ۔ وہ معاملات میں نظر ثانی (reassessment) کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ نتیجے کو دیکھ کر دوبارہ اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ پھر سے سوچنے کا یہ عمل اتنا زیادہ اہم ہے کہ اس کو اختیار نہ کرنا، انسان کو صرف تباہی میں ڈالنے کا سبب بن جاتا ہے۔ پھر سے سوچنے کے اصول کا تعلق فرد سے بھی ہے اور اجتماعی زندگی سے بھی۔ ایک فرد کو بھی یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے فکر و عمل کا بار بار محاسبہ کرتا رہے۔ وہ اپنی زندگی میں تصحیح (correction) کا عمل جاری رکھے۔ وہ مسلسل نظر ثانی کے ذریعے اپنی سوچ کو بھی درست کرتا رہے اور اپنے عمل کو بھی نتیجہ خیز رخ پر جاری رکھے۔ اس عمل کو دوسرے الفاظ میں چیک اور بیلنس (check and balance) کہا جا سکتا ہے، یعنی معاملات کو غیر متعصبانہ انداز میں چیک کرتے رہنا، اور دوبارہ اس کو درست رخ پر لے جانا۔ موجودہ دنیا میں حقیقی کامیابی کے لیے یہ طریقہ لازمی طور پر ضروری ہے۔ اس دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو مسلسل طور پر اپنی زندگی میں اس طریقے کو اپنائے ہوئے ہوں۔ جو فرد یا قوم اس اصول کو نظر انداز کرے، اُس کے حصے میں یقینی طور پر ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں آئے گا۔ ایسے لوگ اگر اپنی ناکامی کا الزام دوسروں کو دیں اور اُن کے خلاف شکایت اور احتجاج کا طوفان اٹھائیں تو یہ ایک نادانی کے اوپر دوسری نادانی کا اضافہ ہوگا۔ حقیقی صورتِ حال میں اس سے کوئی تبدیلی واقع ہونے والی نہیں۔ ٹریفک میں جس طرح یوٹرن (U-turn) کا اصول ہے، ٹھیک اُسی طرح زندگی میں پھر سے سوچنے کا اصول ہے۔ پھر سے سوچنا گویا اپنے فکر و عمل کے معاملے میں یوٹرن لینا ہے۔ سفر جتنا ضروری ہے، اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ زندگی کی گاڑی اگر غلط رخ پر چل پڑے تو آپ اپنی گاڑی کو روک کر دوبارہ اس کو صحیح رخ کی طرف لوٹا دیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues

Printed page